اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِمَثَلٍ: مثال، اعتراض، یا کوئی حجت و دلیل جو وہ پیش کریں۔
بِالْحَقِّ: سچے اور صحیح جواب کے ساتھ۔
أَحْسَنَ تَفْسِیرًا: سب سے بہتر وضاحت اور کھول کر بیان کرنے والا۔
تفسیرِ آیہ:
اے محبوب نبی! یہ کافر جب بھی آپ کے پاس کوئی اعتراض، شبہ یا مثال لے کر آتے ہیں — چاہے وہ قرآنی دعوت کو باطل کرنے کے لیے ہو یا آپ کی نبوت پر الزام تراشی کے لیے — تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً وہ حق اور سچا جواب عطا فرماتا ہے جو ان کے باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ اور یہ جواب نہ صرف حق ہوتا ہے بلکہ انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا جاتا ہے، جو دلوں پر اثر کرتا ہے اور عقلوں کو قائل کرتا ہے۔ یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ وہ اپنے نبی کو ایسے دلائل عطا فرماتا ہے جو ہر اعتراض کا مدلل اور شافی جواب بن جاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ قرآن کا ہر جواب حق پر مبنی ہے اور اس کی وضاحت کا انداز سب سے بہتر ہے۔ جب بھی کوئی شخص قرآن پر اعتراض کرتا ہے، تو اس کا جواب قرآن ہی میں موجود ہے۔ یہ ہمارے لیے باعثِ اطمینان ہے کہ ہمارا دین حق ہے اور اس کی حفاظت خود اللہ کر رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں، کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جس کا ہر لفظ حق ہے اور اس کا بیان سب سے حسین ہے۔ جو شخص قرآن سے وابستہ ہو جائے، اسے کبھی کوئی شک یا شبہ پریشان نہیں کر سکتا۔
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اُتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں۔ اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔