اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَعْلَمُ: سب سے زیادہ جاننے والا۔
وَلِیًّا: مددگار، کارساز، حفاظت کرنے والا۔
نَصِیرًا: مدد کرنے والا، فتح و نصرت دینے والا۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ خوب جانتا ہے کہ تمہارے دشمن کون ہیں اور ان کے دلوں میں تمہارے خلاف کتنی عداوت اور کینہ موجود ہے۔ وہ ان کے نفاق، ان کے مکر اور ان کی سازشوں سے پوری طرح باخبر ہے، چاہے وہ ظاہر میں مسلمان بن کر رہیں یا کھلم کھلا دشمنی کریں۔ اللہ نے تمہیں ان کے حال سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ تم ان سے ہوشیار رہو اور ان کے فریب میں نہ آؤ۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تسلی دیتا ہے کہ اگر تمہارے دشمن بہت سے ہیں اور ان کی طاقت بھی بڑی ہے، تو فکر نہ کرو، کیونکہ اللہ ہی تمہارا ولی اور کارساز ہے۔ وہ تمہاری حفاظت کرے گا، تمہارے معاملات سنبھالے گا اور تمہیں ہر خطرے سے بچائے گا۔ اور وہی تمہارا مددگار اور ناصر ہے جو تمہیں دشمنوں پر غلبہ عطا فرمائے گا۔ جب اللہ تمہارا ولی اور ناصر ہو تو پھر کسی اور کی ضرورت نہیں، نہ کسی کا ڈر رہتا ہے اور نہ کوئی تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور اطمینان کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بھی کوئی خطرہ یا دشمنی کا سامنا ہو، تو ہم اللہ پر بھروسہ کریں، اس کی طرف رجوع کریں اور اس سے مدد مانگیں۔ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ ان کا محافظ، ان کا رہنما اور ان کی نصرت کا ذریعہ بنتا ہے۔ لہٰذا اے مسلمانو! اللہ سے جڑے رہو، اس پر توکل کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی نصرت ہی سب سے بڑی نصرت ہے اور اس کی ولایت ہی سب سے مضبوط ولایت ہے۔
مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں
اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔