بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ: جنہیں کتاب (تورات) کا کچھ حصہ دیا گیا۔
يَشْتَرُونَ الضَّلَالَةَ: وہ گمراہی کو (ہدایت کے بدلے) خرید رہے ہیں، یعنی ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کر رہے ہیں۔
أَن تَضِلُّوا السَّبِيلَ: کہ تم (اے مومنو!) راستے سے بھٹک جاؤ۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! کیا آپ نے اُن لوگوں (یہود) کے حال پر غور نہیں کیا جنہیں تورات کا کچھ حصہ دیا گیا تھا؟ وہ علمِ الٰہی اور ہدایت کے باوجود اسے چھوڑ کر گمراہی کو خرید رہے ہیں، یعنی وہ جان بوجھ کر حق کو ترک کر کے باطل کو اپنا رہے ہیں۔ ان کے پاس وہ دلائل اور براہین موجود تھے جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کی صداقت پر گواہی دیتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور حسد کی وجہ سے انہیں نظرانداز کر دیا۔
یہ لوگ صرف اپنی گمراہی پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم اہلِ ایمان بھی سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ اور انہیں کی طرح گمراہ ہو جاؤ۔ وہ تمہارے لیے راہِ ہدایت میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور تمہیں اپنے گمراہانہ خیالات کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ وہ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں اور اہلِ کتاب کے مکر و فریب سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی مکمل کتاب عطا فرمائی ہے جو ہر دور کے لیے ہدایت ہے، اس لیے ہمیں اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے اور اس پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔ یاد رکھیں، جو لوگ حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جاتے ہیں، وہ نہ صرف خود نقصان میں ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اللہ کی حفاظت میں رہنے والے کبھی ان کے فریب کا شکار نہیں ہوتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں اور اپنے ایمان کو ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رکھیں۔
مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔