شوری · 37/53
ترجمہ تلفظ — شوری
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ۝٣٧
Wallazeena yajtaniboona kabaaa`iral ismi wal fawaa hisha wa izaa maa ghadiboo hum yaghfiroon
📖 اردو ترجمہ
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • کبائر الاثم: بڑے گناہ، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
  • فواحش: انتہائی قبیح اور شرمناک کام، جن پر شرعی حدیں مقرر ہیں۔
  • یغفرون: معاف کر دیتے ہیں، درگزر کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے برگزیدہ بندوں کی مزید خوبیاں بیان فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں، جیسے شرک، قتلِ نفس، زنا، جھوٹی تہمت، سود، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے فرار، والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ نیز وہ ان قبیح اور شرمناک کاموں سے بھی پرہیز کرتے ہیں جن پر اللہ نے حدود مقرر کی ہیں۔ یہ لوگ گناہوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گناہ دل کو اندھا کر دیتے ہیں اور اللہ سے دور کر دیتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ ان کی ایک اور اعلیٰ صفت بیان فرماتے ہیں: "اور جب وہ غصے ہوتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔" یعنی جب کوئی شخص ان پر ظلم کرتا ہے یا انہیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو وہ فوراً بدلہ لینے پر آمادہ نہیں ہوتے، بلکہ اپنے غصے پر قابو پاتے ہیں اور درگزر سے کام لیتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر معاف کرتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کے فضل و ثواب کے طالب ہیں، اور جانتے ہیں کہ معاف کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔

یہ معافی ان کی کمزوری نہیں، بلکہ ان کی طاقت ہے۔ وہ اس وقت معاف کرتے ہیں جب معافی میں بھلائی اور اصلاح ہو، اور اگر کسی صورت میں سزا زیادہ مناسب ہو تو وہ انصاف بھی کر سکتے ہیں، لیکن ان کی فطرت درگزر اور عفو پر مبنی ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! دیکھیں کہ اسلام ہمیں کس بلند اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ غصہ انسان کے لیے سب سے بڑا دشمن ہے، لیکن جو لوگ غصے کے وقت معاف کر دیتے ہیں، وہ حقیقت میں بڑے طاقتور ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں کسی کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔" (بخاری و مسلم)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم بڑے گناہوں سے بچیں، اپنے غصے پر قابو رکھیں، اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر کے اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔ معاف کرنے والوں کے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے، اور وہ لوگ جنت کے قریب ترین ہیں۔ آمین۔



📜 آیت 35-39 — شوری

35وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ
اور (انتقام اس لئے لیا جائے کہ) جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ وہ جان لیں کہ ان کے لئے خلاصی نہیں
36فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں
37وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
38وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
39وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — شوری 37

سورہ شوری آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے…

سورہ آیت 37/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں