Wa law nashaaa`u la-arainaakahum fala `araftahum bi seemaahum; wa lata`rifan nahum fee lahnil qawl; wallaahu ya`lamu a`maalakum
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے! اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر بخواهيم، آنها را به تو مىنمايانيم و تو آنها را به سيمايشان يا از شيوه سخنشان خواهى شناخت، و خدا از اعمالتان آگاه است.
اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے! اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سِيمَاهُمْ: ان کی علامت، پہچان کا نشان۔
لَحْنِ الْقَوْل: گفتگو کا انداز، بات کا ڈھنگ، وہ انداز جس سے مقصد سمجھا جائے۔
تفسیر:
اے نبی! اگر ہم چاہتے تو آپ کو منافقین کی پہچان کرا دیتے اور آپ انہیں ان کے چہروں کے نشانات سے پہچان لیتے۔ لیکن ہماری حکمت کا تقاضا ہے کہ ان کی حقیقت آپ پر ظاہر نہ کی جائے تاکہ لوگوں کا امتحان ہو۔ تاہم آپ انہیں ضرور پہچان لیں گے، کیونکہ ان کی گفتگو کا انداز اور باتوں کا لہجہ ان کے نفاق کو ظاہر کر دے گا۔ جب وہ آپ کے سامنے باتیں بناتے ہیں تو ان کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں جو ان کے دلوں کے فساد کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ وہ چاہ کر بھی اپنی اصلیت کو چھپا نہیں سکتے، کیونکہ ان کی باتیں ان کے دلوں کا آئینہ ہوتی ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال کو خوب جانتا ہے، نہ کوئی نیکی اس سے پوشیدہ ہے اور نہ کوئی بدی۔ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ یہ آیت مومنین کے لیے ایک بشارت ہے کہ اللہ ان کے اخلاص کو دیکھتا ہے، اور منافقین کے لیے ڈر ہے کہ ان کا نفاق اللہ سے چھپا نہیں ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نفاق اور ریاکاری کی کوئی بھی شکل اللہ سے مخفی نہیں ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو ہمیشہ صاف رکھے، کیونکہ زبان کے لہجے اور گفتگو کے انداز سے دل کی کیفیت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اگر ہمارے دل ایمان سے بھرے ہوں تو ہماری باتیں بھی سچی اور صاف ہوں گی، اور اگر دلوں میں کھوٹ ہو تو وہ باتوں سے ظاہر ہو کر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے دلوں کو نفاق سے پاک کریں، اپنی نیتوں کو درست کریں، اور اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں۔ یاد رکھیں، اللہ ہر چیز کو دیکھتا اور جانتا ہے، اور وہی بہترین جزا دینے والا ہے۔
اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے! اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے
جن لوگوں کو سیدھا رستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے۔ اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کردے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔