مائدہ · 32/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ ۝٣٢
min ajli zaalika katabnaa `alaa Banee Israaa`eela annahoo man qatala nnafsam bighairi nafsin aw fasaadin fil ardi faka annnamaa qatalan fil ardi faka annammaa qatalan naasa jamee`anw wa man ahyaahaa faka annamaaa ahyan naasa jamee`aa; wa laqad jaaa`at hum Rusulunaa bilbaiyinaati summa inna kaseeram minhum ba`da zaalika fil ardi lamusrifoon
📖 اردو ترجمہ
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ: اس (قتل) کی وجہ سے، اس واقعہ کی بنا پر
  • کَتَبْنَا: ہم نے فرض کیا، لکھ دیا، حکم مقرر کیا
  • فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ: زمین میں فساد، جیسے کفر، زنا، ڈاکہ زنی، قتل و غارت گری
  • فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا: گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا
  • أَحْيَاهَا: اسے زندہ کیا، یعنی قتل سے بچایا، اس کی جان بچائی
  • بِالْبَيِّنَاتِ: واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ
  • لَمُسْرِفُونَ: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم و زیادتی کرنے والے

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک اہم تاریخی واقعہ سے آگاہ فرماتے ہیں۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تھا، تو اس پہلے قتل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ حکم لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو ناحق قتل کیا، بغیر اس کے کہ وہ کسی جان کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو، یا زمین میں فساد پھیلانے کی سزا میں مارا گیا ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔

یہ حکم اگرچہ بنی اسرائیل کے نام ہے، لیکن اس کا مقصد عام ہے۔ اسلام میں انسانی جان کی حرمت کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، کیونکہ اس میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی، معصوم خون کا بہانا، اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا شامل ہے۔

اس کے برعکس، جس نے کسی جان کو بچایا، یعنی کسی انسان کو موت سے نجات دی، یا اس کے قتل سے روکا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کر دیا۔ یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ ایک جان بچانے کا ثواب اتنا بڑا ہے کہ گویا پوری انسانیت کو زندگی دی۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے پاس ہمارے رسول واضح دلائل اور معجزات لے کر آئے، لیکن اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے بن گئے، زمین میں ظلم و فساد کرتے رہے، اور اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اسلام کی عظیم تعلیم ملتی ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ انسانی جان کی حفاظت اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ آج دنیا میں جہاں قتل و خونریزی عام ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس تعلیم کو اپنائیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم کسی بھی معصوم انسان کے قتل کو روکیں، اور جہاں تک ممکن ہو امن و امان قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یاد رکھیں، ایک جان بچانا گویا پوری انسانیت کو بچانا ہے، اور ایک ناحق قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اس عظیم پیغام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 30-34 — مائدہ

30فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ
مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا
31فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
32مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
33إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
34إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
32آیت

ترجمہ — مائدہ 32

سورہ مائدہ آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر…

سورہ آیت 32/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں