Innamaa jazaaa`ul lazeena yuhaariboonal laaha wa Rasoolahoo wa yas`awna fil ardi fasaadan ai yuqattalooo aw yusallabooo aw tuqatta`a aideehim wa arjuluhum min khilaafin aw yunfaw minalard; zaalika lahum khizyun fid dunyaa wa lahum fil Aakhirati `azaabun `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
جزاى كسانى كه با خدا و پيامبرش جنگ مىكنند و در زمين به فساد مىكوشند، آن است كه كشته شوند، يا بردار گردند يا دستها و پاهايشان يكى از چپ و يكى از راست بريده شود يا از سرزمين خود تبعيد شوند. اينها رسواييشان در اين جهان است و در آخرت نيز به عذابى بزرگ گرفتار آيند.
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ: اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرنا، یعنی اللہ کے احکام کی مخالفت کرنا اور اس کی حدود کو توڑنا۔
یَسْعَوْنَ فِی الْأَرْضِ فَسَادًا: زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرنا، جیسے قتل و غارت گری، ڈاکہ زنی، راستے بند کرنا اور امن و امان کو تباہ کرنا۔
مِنْ خِلَافٍ: الٹے پاؤں سے، یعنی ایک ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹا جائے۔
یُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ: زمین سے جلاوطن کرنا، یعنی اپنے وطن سے نکال کر کسی دوسرے مقام پر قید کر دینا۔
خِزْیٌ: رسوائی، ذلت اور بے عزتی۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کی سزا بیان فرما رہا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں، یعنی اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، حدود اللہ کو توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ ایسے لوگ قتل و غارت گری کرتے ہیں، لوگوں کے اموال لوٹتے ہیں، راستوں میں ڈاکے ڈالتے ہیں اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے چار سزائیں مقرر کی ہیں، جن میں سے حاکمِ وقت یا قاضی اپنی صوابدید کے مطابق کوئی ایک سزا منتخب کر سکتا ہے:
قتل: یعنی انہیں موت کی سزا دی جائے۔
صلب: یعنی انہیں پھانسی پر لٹکایا جائے، یا قتل کے بعد ان کی لاش کو عبرت کے لیے سولی پر چڑھایا جائے۔
قطعِ ید و رجل: یعنی ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے، اور اگر وہ پھر بھی جرم کریں تو بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں کاٹا جائے۔
جلاوطنی: یعنی انہیں وطن سے نکال کر کسی دوسرے علاقے میں قید کر دیا جائے، یہاں تک کہ ان کی توبہ ظاہر ہو جائے۔
یہ سزائیں دنیا میں ان کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث ہیں، اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے، بشرطیکہ وہ توبہ نہ کریں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے کے امن و سلامتی کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اسلام ایک پرامن دین ہے اور وہ کسی بھی قسم کے فساد، قتل و غارت گری اور ڈاکہ زنی کو سختی سے روکتا ہے۔ یہ سزائیں دراصل معاشرے کی حفاظت کے لیے ہیں، تاکہ لوگ امن و امان کی زندگی گزاریں اور کسی کو خوف و ہراس میں مبتلا نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، لیکن وہ ظالموں اور فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کرتا ہے تاکہ لوگ ان برائیوں سے باز آئیں اور معاشرہ پاکیزہ رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں امن و امان قائم رکھیں، کسی کو نقصان نہ پہنچائیں، اور اللہ کے احکام کی پیروی کریں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص ان برائیوں میں ملوث ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور اپنی زندگی سنوار لے۔
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔