Faba`asal laahu ghuraabai yabhasu fil ardi liyuriyahoo kaifa yuwaaree sawata akheeh; qaala yaa wailataaa a`ajaztu an akoona misla haazal ghuraabi fa uwaariya saw ata akhee fa asbaha minan naadimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خدا كلاغى را واداشت تا زمين را بكاود و به او بياموزد كه چگونه جسد برادر خود پنهان سازد. گفت: واى بر من، نتوانم همانند اين كلاغ باشم و پيكر برادرم را دفن كنم. و در زمره پشيمانان درآمد.
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
غُرَابًا: کوّا، ایک معروف پرندہ۔
يَبْحَثُ: زمین کو کھودتا ہے، مٹی اکھاڑتا ہے۔
سَوْءَةَ: جسم کا وہ حصہ جو چھپانا ضروری ہے، یہاں مراد لاش یا مردہ جسم ہے۔
يُوَارِيَ: چھپانا، دفن کرنا۔
يَا وَيْلَتَا: ہائے افسوس! یہ حسرت اور افسوس کا کلمہ ہے۔
أَعَجَزْتُ: کیا میں عاجز ہو گیا، کیا مجھ میں طاقت نہ رہی۔
النَّادِمِينَ: پشیمان ہونے والے، شرمندہ و نادم لوگ۔
تفسیر:
جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا تو وہ لاش کو زمین پر پڑا چھوڑ کر حیران و پریشان کھڑا تھا، کیونکہ اسے معلوم نہ تھا کہ مردہ جسم کو کیسے دفن کیا جائے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کھودنے لگا، تاکہ قابیل کو سکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپایا جائے۔ اس کوّے نے ایک مردہ کوّے کے لیے زمین میں گڑھا کھودا اور اسے اس میں دفن کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل کو اپنی نادانی کا احساس ہوا اور وہ کہنے لگا: "ہائے افسوس! کیا میں اس کوّے سے بھی زیادہ عاجز ہوں کہ اپنے بھائی کی لاش کو دفن نہیں کر سکتا؟" چنانچہ اس نے اپنے بھائی کی لاش کو دفن کر دیا، لیکن یہ ندامت اسے قتل کے جرم سے نہ بچا سکی۔ وہ اپنے کیے پر پشیمان اور شرمندہ رہا۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ قابیل کی ندامت قتل کرنے پر نہیں تھی، بلکہ اس بات پر تھی کہ اس نے بھائی کی لاش کو دفنانے کا انتظام نہیں کیا تھا۔ اس کا دل قتل کے گناہ پر نہیں پسیجا، بلکہ اسے صرف اپنی بےعملی پر افسوس تھا۔ یہ اس کے دل کی سختی اور بےحسی کا ثبوت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، چاہے وہ گناہ گار ہی کیوں نہ ہوں۔ اس نے قابیل کو کوّے کے ذریعے دفن کرنے کا طریقہ سکھایا، تاکہ انسانیت کی عزت اور احترام کا تقاضا پورا ہو۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنے گناہوں پر فوراً توبہ کرنی چاہیے، نہ کہ صرف پشیمانی کا اظہار کرے۔ قابیل کی ندامت اس کے کام نہ آئی، کیونکہ اس نے قتل کے گناہ سے توبہ نہیں کی۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ حسد اور بغض انسان کو کس قدر پستی میں لے جا سکتا ہے۔ قابیل نے محض حسد کی وجہ سے اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اور پھر اسے ایک کوّے سے بھی سبق سیکھنا پڑا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے حسد، بغض اور کینہ کو نکال دیں، کیونکہ یہی وہ برائیاں ہیں جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حسد اور بغض سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔