مائدہ · 34/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝٣٤
Illal lazeena taaboo min qabli an taqdiroo `alaihim fa`lamooo annnal laaha Ghafoorur Raheem
📖 اردو ترجمہ
ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تابوا: توبہ کریں، اپنے گناہوں سے باز آئیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
  • تقدروا عليهم: ان پر قابو پاؤ، انہیں گرفتار کرو یا ان پر دسترس حاصل کرو۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عظیم رحمت اور کرم کا دروازہ کھولتا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے زمین میں فساد پھیلایا، ڈاکہ زنی کی، قتل و غارت گری کی، اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی، ان کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے رحمت کا ایک خاص دروازہ کھلا رکھا ہے۔

اللہ فرماتا ہے کہ جو لوگ اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ، خود آکر توبہ کر لیں، اپنے جرم سے باز آ جائیں، اور اپنے کیے پر نادم ہوں، تو ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔ یعنی اگر وہ خود ہی آکر اپنے جرم کا اعتراف کریں اور توبہ کریں، اس سے پہلے کہ انہیں گرفتار کیا جائے یا ان پر حد جاری کی جائے، تو ان سے وہ سزائیں ساقط ہو جائیں گی جو اللہ کے حقوق کی وجہ سے تھیں۔

یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ وہ مجرموں کو بھی موقع دیتا ہے کہ وہ توبہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یقین جانو کہ اللہ بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، ان کے گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور ان پر رحمت کی بارش کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اللہ کی رحمت کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی گناہ، چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ ہر حال میں توبہ قبول کرتا ہے، بشرطیکہ توبہ خلوص دل سے ہو اور گناہ چھوڑنے کا عزم ہو۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے ہم سے کتنے ہی بڑے گناہ سرزد ہو جائیں۔ اللہ کی رحمت اس کے غضب سے بڑھ کر ہے۔

یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ بھی رحمت کا معاملہ کرنا چاہیے، جیسے اللہ ہمارے ساتھ رحمت کا معاملہ کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے کیے پر شرمندہ ہو اور توبہ کرنا چاہے تو ہمیں اسے موقع دینا چاہیے، اس پر رحم کرنا چاہیے، اور اس کی توبہ کو قبول کرنا چاہیے۔

یہ آیت مسلمانوں کے دلوں میں امید پیدا کرتی ہے کہ اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، اور وہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہیے، اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — مائدہ

32مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
33إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
34إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
35يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ
36إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
34آیت

ترجمہ — مائدہ 34

سورہ مائدہ آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو…

سورہ آیت 34/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں