Fataral lazeena fee quloobihim maraduny yusaari`oona feehim yaqooloona nakhshaaa an tuseebanaa daaa`irah; fa`asallaahu ai yaatiya bilfathi aw amrim min `indihee fa yusbihoo `alaa maaa asarroo feee anfusihim naadimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنهايى را كه در دل مرضى دارند مىبينى كه به صحبتشان مىشتابند، مىگويند: مىترسيم كه به ما آسيبى رسد. اما باشد كه خدا فتحى پديد آرد يا كارى كند، آنگاه از آنچه در دل نهان داشته بودند پشيمان شوند.
تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَرَضٌ: شک اور نفاق۔
یُسَارِعُونَ فِیهِمْ: ان (یہود) کی موالات اور مدد میں جلدی کرتے ہیں۔
دَائِرَةٌ: زمانے کی گردش، یعنی کوئی مصیبت یا غلبہ جو ہم پر آ جائے۔
الفَتْح: فتح مکہ یا نصرتِ الٰہی۔
أَسَرُّوا: چھپایا، پوشیدہ رکھا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ منافقین کے اس رویے سے پردہ اٹھاتے ہیں جو انہوں نے یہود کے ساتھ رکھا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں شک اور نفاق کی بیماری تھی، ایمان کی مضبوطی نہیں تھی۔ وہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے تھے، ان سے دوستی اور تعاون کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم مسلمان ہو کر ان کافروں سے کیوں ملتے ہو؟ تو وہ عذر پیش کرتے تھے: "ہمیں ڈر ہے کہ کہیں زمانہ پلٹ نہ جائے، کہیں یہود و نصاریٰ غالب نہ آ جائیں، اور پھر ہم پر کوئی مصیبت نہ آ پڑے۔" یعنی وہ دنیاوی مفاد کی خاطر ایمان کو بیچ رہے تھے، اور اپنے اس خوف کو بہانہ بنا رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خوف کا جواب دیا کہ عنقریب اللہ اپنے نبی ﷺ کو فتح عطا فرمائے گا، یا کوئی ایسا معاملہ پیش آئے گا جو ان کی امیدوں کو خاک میں ملا دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا — اللہ نے فتح مکہ دی، اور یہود کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا۔ اس وقت وہ منافقین اپنے اس راز پر نادم ہوئے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا تھا، اور انہیں معلوم ہوا کہ ان کی دنیاوی عقلمندی انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ مؤمن کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، نہ کہ کافروں کی خوشنودی اور ان کی مدد پر۔ جو لوگ دنیا کے ڈر سے ایمان کو کمزور کرتے ہیں، وہ آخرت میں شرمندہ ہوں گے۔ اللہ کی مدد کا وعدہ سچا ہے، اور وہ اپنے دین کو ضرور غالب کرے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق اور شک سے پاک رکھیں، اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کریں، کیونکہ اللہ ہی تمام معاملات کا مالک ہے، اور وہی اپنے بندوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔
اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے
اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔