Wa Huwal lazee ansha-a jannaatim ma`rooshaatinw wa ghaira ma`rooshaatinw wan nakhla wazzar`a mukhtalifan ukuluhoo wazzaitoona warrum maana mutashaabihanw wa ghaira mutashaabih; kuloo min samariheee izaaa asmara wa aatoo haqqahoo yawma hasaadihee wa laa tusrifoo; innahoo laa yuhibbul musrifeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اوست كه باغهايى آفريد نيازمند به داربست و بىنياز از داربست، و درخت خرما و كشتزار، با طعمهاى گوناگون، و زيتون و انار، همانند، در عين حال ناهمانند. چون ثمره آوردند از آنها بخوريد و در روز درو حق آن را نيز بپردازيد و اسراف مكنيد كه خدا اسرافكاران را دوست ندارد.
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے باغات پیدا کیے، جن میں سے کچھ وہ ہیں جو ٹٹیوں یا سہاروں پر چڑھائے جاتے ہیں جیسے انگور کے باغ، اور کچھ وہ ہیں جو بغیر سہارے کے زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ نیز اس نے کھجور کے درخت پیدا کیے اور کھیتیاں اگائیں جن کے پھل اور دانے اشکال، رنگ اور ذائقوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس نے زیتون اور انار پیدا کیے، جن کے پتے اور ظاہری شکل ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے مگر ان کا ذائقہ اور پھل ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔
اے لوگو! جب یہ پھل اور فصلیں پھلیں تو انہیں کھاؤ، اور جس دن فصل کاٹو یا پھل توڑو تو اس کا حق ادا کرو، یعنی زکوٰۃ اور وہ حصہ جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہے یا جو صدقہ و خیرات مساکین کا حق ہے۔ اور حد سے تجاوز نہ کرو، نہ کھانے میں اسراف کرو اور نہ ہی صدقہ و خیرات میں اتنا زیادہ خرچ کرو کہ تم خود محتاج ہو جاؤ یا اپنے اہل و عیال کو نقصان پہنچے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، بلکہ وہ ان سے ناراض ہوتا ہے۔
یہ سب نعمتیں اسی اللہ کی طرف سے ہیں جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور تمہارے لیے حلال کیا، تو پھر کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان میں سے کسی چیز کو اپنی طرف سے حرام قرار دے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کا دروازہ کھولا ہے اور انہیں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے تاکہ وہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں اور شکر گزار بندے بن کر اللہ کی محبت کے مستحق ٹھہریں۔
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔