انعام · 140/165
ترجمہ تلفظ — انعام
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ۝١٤٠
Qad khasiral lazeena qatalooo awlaadahum safaham bighairi `ilminw wa harramoo maa razaqahumul laahuf tiraaa`an `alal laah; qad dalloo wa maa kaanoo muhtadeen
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سَفَہًا: بیوقوفی، حماقت اور جہالت کی وجہ سے۔
  • اِفْتِرَاءً: جھوٹ باندھنا، اللہ پر بہتان باندھ کر۔
  • ضَلُّوا: گمراہ ہو گئے۔
  • مُهْتَدِین: ہدایت یافتہ، سیدھے راستے پر چلنے والے۔

تفسیر:

یہ آیت ان جاہل عربوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے، خاص طور پر بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیاں قید و اسیری کا باعث بنیں گی یا فقر و فاقہ کا سبب ہوں گی، اس لیے وہ انہیں قتل کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ سخت خسارے میں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی اولاد کو محض حماقت اور جہالت کی وجہ سے قتل کیا، بغیر کسی علم اور دلیل کے۔ یہ ان کی عقل کی کمی اور دین سے دوری کی علامت تھی۔

اس کے علاوہ انہوں نے اللہ کے رزق کو بھی اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیا، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی (مخصوص جانور) جنہیں وہ اپنے خود ساختہ قوانین کے مطابق حرام قرار دیتے تھے، اور یہ سب کچھ اللہ پر جھوٹ باندھ کر کرتے تھے، یعنی کہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے۔ حالانکہ یہ سراسر بہتان تھا۔

اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فیصلہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ حقیقت میں گمراہ ہو گئے اور ہدایت کے راستے پر نہیں تھے، کیونکہ ہدایت یافتہ وہی ہوتا ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق چلے، نہ کہ اپنی خواہشات اور جاہلانہ رسوم کے پیچھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کسی انسان یا گروہ کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے بھی فرمایا کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے حلال کیا، اور حرام وہ ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں، اور اپنی اولاد کے ساتھ شفقت اور محبت کا سلوک کریں، کیونکہ اولاد اللہ کی امانت ہے، انہیں قتل کرنا یا ان کے حقوق ضائع کرنا سخت گناہ ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ اولاد کے ساتھ ظلم کرتے ہیں، چاہے وہ اسقاط حمل کی صورت میں ہو یا ان کی پرورش میں کوتاہی کی صورت میں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رزق دینے والا ہے، اور وہ ہر مخلوق کا رزق خود فراہم کرتا ہے، اس لیے ہمیں اپنی اولاد کے رزق کا خوف نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 138-142 — انعام

138وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا
139وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
140قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
141۞ وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۚ كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
142وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
140آیت

ترجمہ — انعام 140

سورہ انعام آیت 140 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی…

سورہ آیت 140/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 138–142. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں