اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و از شتر نر و ماده و از گاو نر و ماده، بگو: آيا آن دو نر را حرام كرده است يا آن دو ماده را يا آنچه را كه در شكم مادگان است؟ آيا آن هنگام كه خدا چنين فرمان مىداد شما آنجا بوديد؟ پس چه كسى ستمكارتر از آن كسى است كه به خدا دروغ مىبندد تا از روى بىخبرى مردم را گمراه كند؟ هر آينه خدا ستمكاران را هدايت نمىكند.
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان چار قسم کے جانوروں کا ذکر مکمل کیا ہے جنہیں مشرکینِ عرب اپنی جہالت اور من گھڑت قاعدوں کی بنا پر حلال و حرام قرار دیتے تھے۔ پہلے بھیڑ اور بکری کا ذکر ہوا، اب فرمایا جا رہا ہے کہ اسی طرح اونٹوں میں سے دو (نر اور مادہ) اور گائے میں سے دو (نر اور مادہ) پیدا کیے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان مشرکین سے پوچھتا ہے: "کیا اللہ نے ان میں سے نر کو حرام کیا ہے یا مادہ کو؟ یا وہ بچہ جو مادہ کے پیٹ میں ہو؟" یعنی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، نہ کوئی شرعی حکم، نہ کوئی عقل کی بات۔ وہ محض اپنی خواہشات اور آباء و اجداد کی تقلید میں یہ سب کچھ کرتے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں للکارتا ہے: "کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تھا؟" یعنی اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ نے یہ حرام کیا ہے، تو کیا تم اس وقت موجود تھے جب یہ حکم دیا گیا؟ یقیناً نہیں۔ یہ ایک سخت تردید اور ان کی جہالت کا پردہ چاک کرنے والا سوال ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرے؟" یعنی ان مشرکین کا فعل انتہائی ظلم ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنایا، اور لوگوں کو راہِ راست سے بھٹکایا۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا، کیونکہ انہوں نے خود اپنی طرف سے جہالت اور سرکشی کا راستہ چنا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین میں کوئی چیز حلال یا حرام صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے ہوتی ہے، کسی کی اپنی رائے یا رواج سے نہیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنی خواہشات، رسم و رواج، یا بزرگوں کی تقلید میں ایسے احکام وضع کر لیتے ہیں جو اللہ نے نازل نہیں کیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو حتمی فیصلہ مانیں، اور کسی بھی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے سے پہلے اللہ کے حکم کو دیکھیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر حلال چیزیں بیان کر دیں اور حرام چیزیں بھی واضح کر دیں، تو ہمیں انہیں پر اکتفا کرنا چاہیے، نہ کہ اپنی طرف سے اضافے کرنا۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے، اور یہی راہِ ہدایت ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔