Qul laaa ajidu fee maaa oohiya ilaiya muharraman `alaa taa`iminy yat`amuhooo illaaa ai yakoona maitatan aw damam masfoohan aw lahma khinzeerin fa innahoo rijsun aw fisqan uhilla lighairil laahi bih; famanid turra ghaira baa ghinw wa laa `aadin fa inna Rabbaka Ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: در ميان آنچه بر من وحى شده است چيزى را كه خوردن آن حرام باشد نمىيابم، جز مردار يا خون ريخته يا گوشت خوك كه پليد است يا حيوانى كه در كشتنش مرتكب نافرمانى شوند و جز با گفتن نام اللّه ذبحش كنند. اگر كسى ناچار به خوردن گردد هرگاه بىميلى جويد و از حد نگذراند بداند كه خدا آمرزنده و مهربان است.
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
میتہ: وہ جانور جو بغیر شرعی ذبح کے مر جائے۔
دمًا مسفوحًا: بہتا ہوا خون۔
رجس: ناپاک اور گندگی۔
فسقًا: نافرمانی کا کام، یعنی وہ ذبیحہ جو اللہ کے نام کے بجائے کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
اہلّ لغير اللہ به: جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔
اضطر: مجبور ہو جائے، شدید بھوک کی وجہ سے۔
باغٍ: طالبِ لذت، جو محض مزے کے لیے کھانا چاہے۔
عادٍ: حد سے تجاوز کرنے والا، یعنی ضرورت سے زیادہ کھانے والا۔
تفسیر:
اے نبی! آپ فرما دیجیے کہ میں اس وحی میں جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے، کسی کھانے والے کے لیے کوئی چیز حرام نہیں پاتا، سوائے ان چیزوں کے جو خود اللہ نے حرام قرار دی ہیں۔ پہلی چیز میتہ ہے، یعنی وہ جانور جو بغیر شرعی ذبح کے مر گیا ہو، کیونکہ اس میں خون رکا رہتا ہے جو جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔ دوسری چیز بہتا ہوا خون ہے، جو ذبح کے وقت نکلتا ہے، یہ بھی ناپاک اور نقصان دہ ہے۔ تیسری چیز سور کا گوشت ہے، کیونکہ یہ سراسر ناپاک ہے اور اس میں ایسی نجاستیں ہیں جو انسان کے جسم اور روح دونوں پر برے اثرات ڈالتی ہیں۔ چوتھی چیز وہ ذبیحہ ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، جیسے بتوں یا غیر اللہ کے نام پر، کیونکہ یہ شرک اور نافرمانی کا عمل ہے۔
یہ چار چیزیں ہیں جو قرآن میں صراحتاً حرام بیان کی گئی ہیں، اور ان کے علاوہ جو کچھ بھی زمین کی حلال چیزیں ہیں وہ پاک اور حلال ہیں۔ بعد میں سنت نبوی ﷺ نے مزید کچھ چیزیں حرام قرار دیں، جیسے کچھے پنجوں والے درندے، پرندے جن کے پنجے ہوں، اور گدھے وغیرہ، کیونکہ یہ بھی ناپاک اور نقصان دہ ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے رحمت کا دروازہ کھولا: اگر کوئی شخص شدید بھوک کی وجہ سے مجبور ہو جائے اور ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو جائے، بشرطیکہ وہ محض لذت کے لیے نہ کھا رہا ہو اور نہ ہی ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، وہ اپنے بندوں کی مجبوریوں کو جانتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی رحمت ہے کہ اسلام تنگی اور سختی کا دین نہیں، بلکہ آسانی اور رحمت کا دین ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں پر صرف وہی چیزیں حرام کیں جو حقیقت میں نقصان دہ اور ناپاک ہیں، اور جہاں جان کا خطرہ ہو وہاں رخصت دے دی۔ یہ اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ انسان کی فطرت اور ضروریات کا مکمل لحاظ رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو دل سے قبول کریں اور ان کی حکمتوں کو سمجھیں، کیونکہ ہر حکم میں بندے کی بھلائی ہی پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال و حرام کی پہچان عطا فرمائے اور حرام سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین۔
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔