(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هشت لنگه: از گوسفند، نر و ماده و از بز، نر و ماده. بگو: آيا آن دو نر را حرام كرده است يا آن دو ماده را يا آنچه را در شكم مادگان است؟ اگر راست مىگوييد از روى علم به من خبر دهيد.
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو چوپائے پیدا کیے ہیں، ان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آٹھ قسم کے ہیں۔ بھیڑ سے دو (نر اور مادہ) اور بکری سے دو (نر اور مادہ)۔ یعنی کل چار قسمیں بھیڑ اور بکری کی ہیں، اور باقی چار اونٹ اور گائے کی ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔
اب اے نبی! ان مشرکین سے پوچھیے جو خود اپنی طرف سے کچھ جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں: کیا اللہ نے ان میں سے صرف نر کو حرام کیا ہے یا صرف مادہ کو؟ یا پھر وہ بچہ جو مادہ کے پیٹ میں ہو؟ انہیں بتائیے کہ تمہارے پاس کوئی علمی دلیل ہے بھی؟ اگر تم سچے ہو تو اپنے اس دعوے پر کوئی ثبوت پیش کرو۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے ایک چیلنج ہے جو بغیر کسی شرعی دلیل کے اپنی من گھڑت باتوں کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام جانور حلال کیے ہیں، سوائے ان کے جو قرآن و سنت میں صراحتاً حرام قرار دیے گئے ہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین کے معاملات میں کسی کو اپنی رائے سے حلال و حرام مقرر کرنے کا حق نہیں۔ یہ اختیار صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے۔ جو لوگ اس حد سے تجاوز کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے دعوے پر دلیل پیش کریں، ورنہ وہ محض جھوٹے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ ہمارے لیے بہترین ہیں، اور جو حرام کی ہیں وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام پر راضی رہیں اور اپنے نفس کی خواہشات کو شریعت پر مقدم نہ کریں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔