Wa izaa jaaa`akal lazeena yu`minoona bi Aayaatinaa faqul salaamun `alaikum kataba Rabbukum `alaa nafsihir rahmata annahoo man `amila minkum sooo`am bijahaalatin summa taaba mim ba`dihee wa aslaha fa annahoo Ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون ايمان آوردگان به آيات ما نزد تو آمدند، بگو: سلام بر شما، خدا بر خويش مقرر كرده كه شما را رحمت كند، زيرا هر كس از شما كه از روى نادانى كارى بد كند، آنگاه توبه كند و نيكوكار شود، بداند كه خدا آمرزنده و مهربان است.
بِآيَاتِنَا: ہماری نشانیوں پر، یعنی قرآن اور دیگر دلائل پر ایمان لانے والے۔
کَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ: تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے، یعنی یہ اس کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب قرار دیا۔
بِجَهَالَةٍ: جہالت کی حالت میں، یعنی نادانی اور سمجھ کی کمی کی وجہ سے۔
تَابَ: توبہ کی، گناہ سے باز آیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔
وَأَصْلَحَ: اور اپنے عمل کو درست کیا، نیک اعمال کیے۔
تفسیر:
اے نبی! جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کرنے کے لیے آپ کی طرف رجوع کریں، تو انہیں خوش آمدید کہیں اور انہیں سلام کریں۔ یہ ان کی عزت اور تکریم کا ذریعہ ہے۔ پھر انہیں اللہ کی رحمت کی خوشخبری دیں کہ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی مغفرت فرمانا اس کی سنت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص تم میں سے کوئی گناہ کر بیٹھے، خواہ وہ نادانی اور جہالت کی وجہ سے ہو — اور یہاں جہالت کا مطلب وسیع ہے، یعنی ہر گناہ کرنے والا، چاہے وہ جان بوجھ کر کرے یا بھول کر، اس لحاظ سے جہالت میں ہے کہ اس نے گناہ کے انجام اور اس کے وبال کو نہیں سمجھا — پھر وہ اس گناہ کے بعد توبہ کر لے اور اپنے عمل کو درست کر لے، یعنی اپنی زندگی کو نیکی اور تقویٰ کی طرف موڑ لے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اللہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کے لیے بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے! اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے، یعنی وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ گناہ چاہے کتنا ہی بڑا ہو، اگر بندہ سچی توبہ کرے اور اپنے حال کو درست کر لے، تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ لہٰذا اے بندو! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اپنے اعمال کو درست کرو، اور اللہ کے فضل کی طرف رجوع کرو۔ اللہ تمہیں معاف کر دے گا اور تم پر رحم فرمائے گا۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟
اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے
(اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔