ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَتَنَّا: ہم نے آزمایا، مبتلا کیا۔
- بَعْضَهُم بِبَعْضٍ: ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے۔
- مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ: اللہ نے ان پر احسان کیا۔
- بِالشَّاكِرِينَ: شکر گزاروں کو۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے آزمایا ہے۔ یعنی معاشرے میں لوگوں کے درجے، رزق، طاقت اور حالات میں فرق رکھا ہے۔ کسی کو غنی بنایا، کسی کو فقیر؛ کسی کو طاقتور بنایا، کسی کو کمزور؛ کسی کو شریف بنایا، کسی کو معمولی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں، اور یہی امتحان ہے۔
اس آزمائش کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب کافر اور مالدار لوگ دیکھتے ہیں کہ کمزور اور غریب لوگ ایمان لے آئے ہیں اور اللہ نے انہیں اسلام کی ہدایت سے نوازا ہے، تو وہ تعجب اور تکبر سے کہتے ہیں: "کیا یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان کیا؟" یعنی ان کی نظر میں یہ لوگ حقیر تھے، اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر اسلام بھی کوئی بھلائی ہوتی تو ہم اس کے حقدار ہوتے، یہ غریب اور کمزور لوگ اس سے پہلے کیسے مشرف ہو گئے؟ یہ ان کا استہزاء اور تکبر تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا: کیا اللہ ان لوگوں کو نہیں جانتا جو اس کے شکر گزار ہیں؟ یقیناً اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا ہے، اور کون ناشکری کرنے والا ہے۔ جو لوگ شکر گزار ہیں، اللہ انہیں ہدایت کی توفیق دیتا ہے، اور جو ناشکرے ہیں، انہیں گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا میں مال و دولت یا عزت و جاہ کا ہونا اللہ کی نظر میں فضیلت کی دلیل نہیں ہے۔ اصل فضیلت ایمان، شکر اور اطاعت ہے۔ جو شخص اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر اس کا شکر ادا کرتا ہے، وہی اللہ کے نزدیک محبوب ہے، چاہے وہ دنیا میں غریب اور کمزور ہی کیوں نہ ہو۔
اور اے بھائیو! یہ بات غور طلب ہے کہ جب ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اکثر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کے دین کے لیے قربانیاں دیں، وہ عام اور غریب طبقے سے تھے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، ہدایت سے نوازتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کو حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ دنیاوی مرتبہ۔
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں سے تکبر اور غرور کو نکالیں، اور یہ سمجھیں کہ اللہ کی رحمت اور ہدایت کسی پر بھی نازل ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، تاکہ اللہ ہمیں مزید ہدایت اور توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہم سب کو شکر گزار بندے بنائے، آمین۔
📜 آیت 51-55 — انعام
ترجمہ — انعام 53
سورہ انعام آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے…سورہ آیت 53/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








