Darabal laahu masalal lillazeena kafarum ra ata Noobinw wamra ata Loot, kaanataa tahta `abdaini min `ibaadinaa saalihaini fakhaanataahumaa falam yughniyaa `anhumaa minal laahi shai anw-wa qeelad khulan naara ma`ad Daakhileen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا نے کافروں کے لئے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے ان کی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں اور ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خدا براى كافران مثَل زن نوح و زن لوط را مىآورد كه هر دو در نكاح دو تن از بندگان صالح ما بودند و به آن دو خيانت ورزيدند. و آنها نتوانستند از زنان خود دفع عذاب كنند و گفته شد: با ديگران به آتش درآييد.
خدا نے کافروں کے لئے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے ان کی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں اور ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے ایک مثال بیان فرمائی ہے: نوح علیہ السلام کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی۔ یہ دونوں عورتیں ہمارے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں، لیکن انہوں نے اپنے شوہروں کے ساتھ خیانت کی۔ یہ خیانت دین کے معاملے میں تھی، یعنی وہ کفر اور شرک پر قائم رہیں اور اپنے شوہروں کی نبوت کی تصدیق نہ کی۔ نوح علیہ السلام کی بیوی لوگوں سے کہتی تھی کہ وہ مجنون ہیں، اور لوط علیہ السلام کی بیوی مہمانوں کے بارے میں کافروں کو اطلاع دیتی تھی۔ ان دونوں نیک پیغمبروں نے اپنی بیویوں کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے کچھ نہ کرسکے، کیونکہ نجات کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہے، نہ کہ کسی کی رشتہ داری یا قربت پر۔ آخر کار ان دونوں عورتوں سے کہا گیا کہ دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہو جاؤ۔
اس مثال سے اللہ تعالیٰ یہ سبق دیتا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت یا ان سے قربت کسی کو فائدہ نہیں دے سکتی اگر وہ خود ایمان اور نیک اعمال سے محروم ہو۔ کسی نبی یا ولی کی اولاد، بیوی یا رشتہ دار ہونا نجات کی ضمانت نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ یہ بات مسلمانوں کے لیے بھی نصیحت ہے کہ وہ صرف نسب یا تعلق پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ اپنے ایمان اور عمل کو مضبوط کریں۔ نیز یہ کافروں کے لیے تنبیہ ہے کہ اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقتی تعلق یا معاشرت رکھتے ہیں تو اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے ہاں اصل معیار تقویٰ اور ایمان ہے، نہ کہ دنیاوی رشتے اور نسب۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور نیک لوگوں کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں، لیکن یہ یاد رکھیں کہ نجات صرف اللہ کے فضل اور اپنے اعمال سے ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے ایمان اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مومنو! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا (بلکہ) ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا۔ اور وہ خدا سے التجا کریں گے کہ اے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف کرنا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
خدا نے کافروں کے لئے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے ان کی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں اور ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ
اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال (زشت مآل) سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما
اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرمانبرداروں میں سے تھیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔