Wa iz nataqnal jabala fawqahum ka annahoo zullatunw wa zannooo annahoo waaqi`um bihim khuzoo maaa aatainaakum biquwwatinw wazkuroo maa feehi la`allakum tattaqoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و كوه را بر فراز سرشان چون سايبانى نگه داشتيم و مىپنداشتند كه اكنون بر سرشان خواهد افتاد. كتابى را كه به شما دادهايم با نيرومندى بگيريد و هر چه را كه در آن آمده است به ياد داريد، باشد كه پرهيزگار شويد.
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَتَقْنَا: ہم نے اکھاڑ کر اٹھا لیا۔
ظُلَّةٌ: سایہ کرنے والی چیز، جیسے بادل۔
وَظَنُّوا: انہوں نے یقین کر لیا۔
بِقُوَّةٍ: پوری محنت، عزم اور استقامت کے ساتھ۔
تفسیر:
اے نبی! اس وقت کو یاد کرو جب بنی اسرائیل نے تورات کے احکام قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی اور ضد کو دیکھتے ہوئے ایک عظیم معجزہ دکھایا۔ ہم نے پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر ان کے سروں پر اس طرح معلق کر دیا جیسے کوئی بادل سایہ کر رہا ہو۔ یہ منظر انتہائی ہیبت ناک تھا۔ انہوں نے جب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پہاڑ ان پر گرنے والا ہے، تو انہیں یقین ہو گیا کہ اگر انہوں نے تورات قبول نہ کی تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اس وقت ہم نے ان سے کہا: "جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو، یعنی تورات کے احکام کو پوری محنت، عزم اور استقامت کے ساتھ قبول کرو، چاہے وہ تمہیں سخت اور مشکل لگیں۔ اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو اور اس پر عمل کرو۔" یہ سب اس لیے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ، یعنی اللہ کے عذاب سے بچو اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرو۔
یہ واقعہ بنی اسرائیل کی سرکشی اور اللہ کی قدرت کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسے معجزے کے ذریعے ڈرایا جو ان کی سمجھ سے باہر تھا، تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کے احکام کو بغیر کسی بحث و تکرار کے قبول کرنا چاہیے، چاہے وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے تھامنا اور اس پر عمل کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمارے لیے آسان راستہ چنا ہے۔ ہمیں اپنے رب کے احکام کو محبت اور اطاعت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ جب ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں گے تو ہماری زندگی میں برکتیں نازل ہوں گی اور ہم تقویٰ کی بلندیوں تک پہنچ جائیں گے۔ اللہ ہمیں اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔