اعراف · 172/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَإِذۡ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِيٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَأَشۡهَدَهُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ شَهِدۡنَآۚ أَن تَقُولُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنۡ هَٰذَا غَٰفِلِينَ  ۝١٧٢
Wa iz akhaza Rabbuka mim Baneee Aadama min zuhoorihim zurriyyatahum wa ash hadahum `alaa anfusihim alastu bi Rabbikum qaaloo balaa shahidnaaa; an taqooloo Yawmal Qiyaamati innaa kunnaa `an haazaa ghaafileen
📖 اردو ترجمہ
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ظُهُورِهِمْ: ان کی پشتوں (کمروں) سے
  • ذُرِّیَّتَهُمْ: ان کی اولاد (نسل)
  • أَشْهَدَهُمْ: انہیں گواہ بنایا
  • أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟
  • بَلَى: کیوں نہیں (ہاں، ضرور)
  • غَافِلِينَ: بے خبر، لاپرواہ

تفسیر:

اے نبی کریم ﷺ! آپ اس عظیم واقعہ کو یاد کریں جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کے نفسوں پر گواہ بنایا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے ان کی فطرت میں پہلے سے موجود توحید کے عہد کو ظاہر کیا۔ اللہ نے ان سے سوال کیا: "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" اور تمام انسانوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا: "کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں۔"

یہ عہد و میثاق اس لیے لیا گیا تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ "ہمیں تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا" یا "ہم اس سے بے خبر تھے۔" اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں اپنی ربوبیت کا ادراک رکھ دیا ہے، اور یہی وہ فطری گواہی ہے جو کسی بھی انسان کو معذرت کا موقع نہیں دیتی۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ توحید ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ حقیقت ہے۔ جب کوئی انسان اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانکتا ہے تو اسے اپنے خالق کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وہ فطری نور ہے جو ہر انسان کو اپنے رب کی طرف راغب کرتا ہے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں فطرتِ سلیمہ عطا کی اور ہمارے دلوں میں اپنی معرفت کا بیج بو دیا۔ ہمیں چاہیے کہ اس فطری نور کو اپنے اندر زندہ رکھیں، اپنے رب کی عبادت کریں اور اس کے احکامات پر عمل کریں۔ یہی وہ عہد ہے جو ہم نے اپنے رب سے کیا تھا، اور قیامت کے دن ہم سے اس عہد کے بارے میں سوال ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عظیم نعمت دی ہے کہ ہم اسے پہچانیں، اس کی عبادت کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔ جو شخص اس فطری معرفت کو اپنے دل میں پروان چڑھاتا ہے، وہ دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی پاتا ہے۔ آئیے ہم اپنے اس عہد کو یاد رکھیں اور اپنی زندگیوں کو اپنے رب کی رضا کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 170-174 — اعراف

170وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُصۡلِحِينَ 
اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
171۞ وَإِذۡ نَتَقۡنَا ٱلۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُۥ وَاقِعُۢ بِهِمۡ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٍ وَٱذۡكُرُواْ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ 
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
172وَإِذۡ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِيٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَأَشۡهَدَهُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ شَهِدۡنَآۚ أَن تَقُولُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنۡ هَٰذَا غَٰفِلِينَ 
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
173أَوۡ تَقُولُوٓاْ إِنَّمَآ أَشۡرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢ بَعۡدِهِمۡۖ أَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ 
یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے
174وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ 
اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
172آیت

ترجمہ — اعراف 172

سورہ آیت 172/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 170–174. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں