اعراف · 48/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ ۝٤٨
Wa naadaaa Ashaabul A`raffi rijaalany ya`rifoonahum biseemaahum qaaloo maaa aghnaa `ankum jam`ukum wa maa kuntum tastakbiroon
📖 اردو ترجمہ
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ: اعراف کے لوگ، یعنی وہ مومن جن کے نیک اور برے اعمال برابر ہوں گے، یا وہ انبیاء اور برگزیدہ ہستیاں جو جنت اور جہنم کے درمیان بلندی پر کھڑے ہوں گے۔
  • بِسِيمَاهُمْ: ان کی علامتوں سے، یعنی چہرے کے آثار سے۔
  • مَا أَغْنَىٰ: کچھ فائدہ نہ دیا، کوئی کام نہ آیا۔
  • جَمْعُكُمْ: تمہارا جمع کیا ہوا مال، دولت، اولاد اور لشکر۔
  • تَسْتَكْبِرُونَ: تکبر کرتے تھے، حق قبول کرنے سے سرتابی کرتے تھے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کے اس منظر سے آگاہ فرماتے ہیں جب اعراف والے (یعنی وہ نیک لوگ جو جنت اور جہنم کے درمیان بلند مقام پر ہوں گے) جہنم میں موجود کچھ لوگوں کو پکاریں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں اعراف والے ان کی خاص علامتوں سے پہچان لیں گے — ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، آنکھیں نیلی ہوں گی، اور ان پر ذلت و رسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔

اعراف والے ان کافروں کے سرداروں اور قائدین سے خطاب کرتے ہوئے فرمائیں گے: "تمہارا وہ جمع کیا ہوا مال و دولت، تمہاری اولاد، تمہارے لشکر اور تمہاری طاقت — کیا وہ سب آج تمہارے کسی کام آیا؟ کیا اس نے تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیا؟" پھر وہ انہیں یاد دلائیں گے کہ "تم نے دنیا میں حق کو قبول کرنے سے تکبر کیا، ایمان لانے سے سرتابی کی، اور اللہ کے دین کو ماننے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔ آج وہی تکبر تمہارے لیے رسوائی اور عذاب کا سبب بن گیا۔"

یہ منظر انتہائی عبرتناک ہے۔ یہاں اہلِ اعراف کا یہ خطاب دراصل ان کافروں کے لیے ایک اور باعثِ عذاب ہوگا، کیونکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا کہ انہوں نے مال و دولت اور جاہ و منصب پر بھروسہ کیا، لیکن وہ سب کچھ آج بے کار ثابت ہوا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا کی دولت، اولاد، مرتبہ اور طاقت — یہ سب کچھ آخرت میں کسی کام نہ آئے گی۔ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی نجات کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کریں، چاہے وہ کسی سے بھی آئے، اور تکبر سے بچیں، کیونکہ تکبر ایمان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے، ہمیں اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے خالق کو پہچاننا چاہیے اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔ یاد رکھیں، قیامت کا دن یقینی ہے، اور اس دن صرف ایمان اور عملِ صالح کام آئیں گے، نہ مال، نہ اولاد، نہ عزت و جاہ۔ اللہ ہمیں تکبر سے بچائے اور حق قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 46-50 — اعراف

46وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
47۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
48وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
49أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
50وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
48آیت

ترجمہ — اعراف 48

سورہ اعراف آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں…

سورہ آیت 48/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں