A haaa`ulaaa`il lazeena aqsamtum laa yanaaluhumul laahu birahma; udkhulul Jannata laa khawfun `alaikum wa laaa antum tahzanoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا اينان همان كسانند كه شما سوگند خورده بوديد كه رحمت خداوند نصيبشان نمىشود؟ داخل در بهشت شويد، نه بيمى بر شماست و نه غمگين مىشويد.
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَقْسَمْتُمْ: تم نے قسم کھائی تھی
لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ: اللہ انہیں اپنی رحمت سے نوازے گا ہی نہیں
لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ: تم پر کوئی خوف نہیں
وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ: اور نہ تم غمگین ہو گے
تفسیر:
یہ وہ عظیم منظر ہے جو قیامت کے دن پیش آئے گا جب اہلِ اعراف (وہ لوگ جن کے نیک اور برے اعمال برابر ہوں گے) جنت والوں کی طرف دیکھیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کفار کو مخاطب کر کے انہیں ملامت فرمائے گا اور کہے گا: "کیا یہی وہ کمزور اور غریب لوگ ہیں جن کے بارے میں تم دنیا میں قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ ان پر رحم نہیں کرے گا اور انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا؟" یہ وہی مخلص مؤمن تھے جنہیں دنیا میں مال و دولت کی کمی کی وجہ سے حقیر سمجھا جاتا تھا، جیسے سلمان، صہیب، خباب اور بلال رضی اللہ عنہم۔ کفارِ مکہ انہیں اپنی امیرانہ شان و شوکت کی وجہ سے کمتر خیال کرتے تھے، مگر آج اللہ نے انہیں جنت کا ولی بنایا اور کفار کو رسوا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ اہلِ اعراف سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ادخلوا الجنة" یعنی تم سب جنت میں داخل ہو جاؤ، تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہو گا۔ یہ وہ خوشخبری ہے جو ہر مومن کے دل کو سکون بخشتی ہے۔ خوف اس لیے نہیں کہ مستقبل میں کوئی عذاب یا سختی نہیں، اور غم اس لیے نہیں کہ دنیا میں جو کچھ تم نے چھوڑا، جو محرومیاں اٹھائیں، وہ سب اس نعمتِ جاودانی کے سامنے ہیچ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ تقویٰ اور ایمان ہے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور اور غریب نظر آتے ہیں، وہ اللہ کے ہاں بہت محبوب ہو سکتے ہیں۔ ہمیں کبھی کسی کو اس کے ظاہری حالات کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ نیز یہ آیت ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے نیک بندوں پر ضرور نازل ہوتی ہے، چاہے دنیا والے انہیں کتنا ہی کمزور سمجھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان اور عمل کو مضبوط کریں تاکہ ہم بھی اس خوشخبری کے مستحق بنیں کہ "لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ"۔ اللہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے اور جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ آمین۔
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔