اے کافروں اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! یہ عذاب جو دنیا میں تم پر نازل ہوا ہے (جیسے بدر کے میدان میں تمہاری شکست اور قتل و اسیری)، یہ تمہارے کرتوتوں کا بدلہ ہے۔ اسے ابھی اس دنیا میں چکھو اور اس کا تلخ مزہ لو، کیونکہ یہ تو صرف ایک جھلک ہے اس عظیم عذاب کی جو تمہارے لیے آخرت میں تیار ہے۔ اگر تم اپنے کفر اور سرکشی پر ہی مر گئے، تو یقین جانو کہ آخرت میں تمہارے لیے جہنم کی آگ کا عذاب ہے، جو کبھی ختم نہ ہوگا اور نہ ہی اس میں کوئی تخفیف ہوگی۔
یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے کہ جو شخص دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے رسول کی مخالفت پر اصرار کرتا ہے، اسے دونوں جہانوں میں سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کا عذاب تو وقتی ہے، مگر آخرت کا عذاب دائمی ہے۔
دعوتی پہلو:
اے بندو! ذرا سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے کہ وہ دنیا میں ہی متنبہ کر دیتا ہے تاکہ لوگ اپنی غلطیوں سے باز آ جائیں اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائیں۔ یہ موقع توبہ اور رجوع کا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت اور قرآن پر عمل کرنے میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ جو شخص آج اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ آئے، اللہ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اسے جنت کی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، بس شرط یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور سچے دل سے توبہ کرے۔ آج ہی کا دن ہے، کل کا انتظار نہ کرو، کیونکہ معلوم نہیں کل کس کے نام ہو۔
جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔