توبہ · 107/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَكُفۡرًا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ  ۝١٠٧
Wallazeenat takhazoo masjidan diraaranw wa kufranw wa tafreeqam bainal mu`mineena wa irsaadal liman haarabal laaha wa Rasoolahoo min qabl; wa la yahlifunna in aradnaaa illal husnaa wallaahu yash hadu innahum lakaaziboon
📖 اردو ترجمہ
اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ضِرارًا: نقصان پہنچانے کے لیے، مسلمانوں کو نقصان دینے کی نیت سے۔
  • کُفرًا: کفر کو مضبوط کرنے اور اس کی حمایت کرنے کے لیے۔
  • تَفْرِيقًا: مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور ان کے اتحاد کو توڑنے کے لیے۔
  • إِرْصَادًا: تیاری اور انتظار کرنا، کسی کے لیے جگہ مہیا کرنا۔
  • الْحُسْنَىٰ: بھلائی، اچھا مقصد۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے ایک اور گھناؤنے عمل کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی۔ ان کا مقصد بالکل صاف نہیں تھا، بلکہ ان کے ارادے انتہائی گندے اور مکارانہ تھے۔ انہوں نے یہ مسجد چار برے مقاصد کے لیے بنائی تھی:

  1. مسلمانوں کو نقصان پہنچانا: وہ چاہتے تھے کہ اس مسجد کے ذریعے اہلِ ایمان کو تکلیف دیں اور ان کے دینی معاملات میں رکاوٹ ڈالیں۔
  2. کفر کو فروغ دینا: ان کا مقصد کفر اور نفاق کو تقویت دینا تھا، تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی صفوں کو مضبوط کریں۔
  3. مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا: وہ چاہتے تھے کہ مومنین جو مسجدِ قبا میں جمع ہوتے تھے، ان میں اختلاف پیدا ہو جائے اور وہ آپس میں بٹ جائیں۔ یہ ان کا سب سے بڑا مقصد تھا کہ اتحادِ امت کو پارہ پارہ کر دیں۔
  4. دشمنوں کے لیے اڈہ بنانا: انہوں نے یہ مسجد اس شخص کے انتظار میں بنائی تھی جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ چکا تھا — یعنی ابو عامر راہب (فاسق) — تاکہ وہ واپس آ کر اس مسجد کو مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا مرکز بنائے۔

یہ منافقین جب اپنے اس فعلِ بد پر پکڑے گئے تو انہوں نے قسمیں کھانا شروع کر دیں کہ "ہمارا مقصد تو صرف بھلائی تھا، ہم نے یہ مسجد غریبوں، کمزوروں اور بیماروں کی سہولت کے لیے بنائی تھی تاکہ وہ دور دراز جانے کی زحمت سے بچ سکیں۔" وہ اپنے اس جھوٹے دعوے پر بڑے زور سے قسمیں کھا رہے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کا حال خوب جانتے ہوئے فرمایا کہ "اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ یقیناً جھوٹے ہیں۔" ان کی قسمیں ان کے نفاق کو چھپا نہ سکیں، اور اللہ نے ان کے اصل ارادوں سے سب کو آگاہ کر دیا۔

آخر کار رسول اللہ ﷺ کے حکم سے یہ مسجد ڈھا دی گئی اور جلا دی گئی، کیونکہ اسلام میں کبھی بھی نقصان، فساد اور تفرقہ کی بنیاد پر عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ نیک کاموں کی صورت میں بھی اگر نیت خراب ہو تو اللہ کے نزدیک وہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ہر عمل میں اخلاص پیدا کریں، کیونکہ اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ کتنے ہی لوگ آج بھی دین کے نام پر مساجد بناتے ہیں، مدارس کھولتے ہیں، یا دینی کام کرتے ہیں، لیکن ان کا مقصد صرف دکھاوا، شہرت، یا مسلمانوں میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا انجام وہی ہوگا جو مسجدِ ضرار بنانے والوں کا ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ نیت عطا فرمائے اور ہمیں تفرقہ سے بچائے، آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 105-109 — توبہ

105وَقُلِ ٱعۡمَلُواْ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ 
اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا
106وَءَاخَرُونَ مُرۡجَوۡنَ لِأَمۡرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيۡهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 
اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے ان کو معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
107وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَكُفۡرًا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ 
اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
108لَا تَقُمۡ فِيهِ أَبَدًاۚ لَّمَسۡجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقۡوَىٰ مِنۡ أَوَّلِ يَوۡمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُطَّهِّرِينَ 
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
109أَفَمَنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقۡوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٍ خَيۡرٌ أَم مَّنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَٱنۡهَارَ بِهِۦ فِي نَارِ جَهَنَّمَۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ 
بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
107آیت

ترجمہ — توبہ 107

سورہ آیت 107/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 105–109. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں