Laa taqum feehi abadaa; lamasjidun ussisa `alat taqwaa min awwali yawmin ahaqqu an taqooma feeh; feehi rijaaluny yuhibbona ai yatatahharoo, wallaahu yuhibbul mmuttah hireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هرگز در آن مسجد نمازمگزار. مسجدى كه از روز نخست بر پرهيزگارى بنيان شده شايستهتر است كه در آنجا نماز كنى. در آنجا مردانى هستند كه دوست دارند پاكيزه باشند، زيرا خدا پاكيزگان را دوست دارد.
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا: اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں، یعنی اس میں نماز نہ پڑھیں۔
أُسِّسَ: بنیاد رکھی گئی۔
التَّقْوَىٰ: پرہیزگاری، اللہ کا خوف اور اس کی اطاعت۔
أَحَقُّ: زیادہ حقدار اور بہتر۔
يَتَطَهَّرُوا: پاکیزگی حاصل کریں (نجاستوں سے اور گناہوں سے)۔
الْمُطَّهِّرِينَ: خوب پاکیزگی اختیار کرنے والے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس مسجد (مسجد ضرار) میں کبھی کھڑے نہ ہوں، یعنی وہاں نماز پڑھنے کے لیے ہرگز نہ جائیں۔ یہ مسجد منافقوں نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور اسلام کے خلاف سازش کرنے کے لیے بنائی تھی، اس لیے اللہ نے اسے بالکل رد کر دیا۔
اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مسجد جو پہلے ہی دن سے تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے — یعنی مسجد قبا یا مسجد نبوی — وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔ اس مسجد کی عظمت اس لیے بھی ہے کہ وہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکیزگی سے محبت کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ظاہری نجاستوں سے پاک رہتے ہیں بلکہ اپنے دلوں کو گناہوں، نفاق اور برائیوں سے بھی پاک رکھتے ہیں۔ وہ توبہ اور استغفار کے ذریعے اپنے اندر کی گندگی کو دھوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے اپنی خاص رحمت اور مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت کی جگہوں کی بنیاد تقویٰ، اخلاص اور اللہ کی رضا پر ہونی چاہیے، نہ کہ نفاق، سازش اور تفرقہ پر۔ جو لوگ ظاہری اور باطنی پاکیزگی کا اہتمام کرتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پاکیزگی صرف جسم کی نہیں بلکہ دل اور روح کی بھی ہونی چاہیے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر کو طہارت سے اور اپنے باطن کو گناہوں سے پاک رکھے۔ اللہ تعالیٰ پاک لوگوں سے محبت کرتا ہے، اور جو لوگ اس محبت کو حاصل کر لیتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ آئیے ہم سب اپنی زندگیوں کو پاکیزگی کا نمونہ بنائیں، کیونکہ اللہ کی محبت ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔
اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔