Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُرْجَوْنَ: مؤخر، روکے ہوئے، جن کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہو۔
- لِأَمْرِ اللہِ: اللہ کے حکم اور فیصلے کے انتظار میں۔
- إِمَّا یُعَذِّبُہُمْ: یا تو انہیں عذاب دے۔
- إِمَّا یَتُوبُ عَلَیْہِمْ: یا ان کی توبہ قبول فرما لے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں میں کچھ اور لوگ بھی تھے جن کا معاملہ فیصلہ کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ یہ وہ تین حضرات تھے: مرارہ بن ربیع، کعب بن مالک اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم۔ یہ لوگ اپنے قصور پر نادم تھے، لیکن ان کی توبہ کی صداقت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علمِ کامل پر چھوڑ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا معاملہ اللہ کے حکم کے انتظار میں ہے، وہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول فرما کر ان پر رحمت نازل کرے۔ یہ معاملہ پچاس راتوں تک معلق رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمانے کا فیصلہ نازل فرمایا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں کے حال سے خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ کون سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور کون محض ظاہری طور پر معذرت پیش کرتا ہے۔ وہ حکیم ہے، اس کا ہر فیصلہ حکمت و مصلحت پر مبنی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، چاہے بندہ کتنا ہی بڑا قصور کر بیٹھے، اگر وہ خلوص دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ غزوہ تبوک جیسے عظیم موقع پر پیچھے رہ جانا کوئی معمولی بات نہ تھی، لیکن جب ان صحابہ کرام نے سچے دل سے توبہ کی اور اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کیا تو اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔ یہ ہمارے لیے امید کا پیغام ہے کہ ہم سے جو کوتاہیاں بھی ہوئی ہوں، اگر ہم خلوص دل سے اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں تو اللہ تعالیٰ ہماری توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔" (الزمر: 53)۔ لہٰذا ہمیں کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہیے۔
📜 آیت 104-108 — سورہ توبہ
ترجمہ — توبہ 106
سورہ توبہ آیت 106 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے…سورہ آیت 106/129 — سورہ توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ توبہ سنیں, سورہ توبہ ترجمہ, سورہ توبہ mp3, سورہ توبہ pdf. آیت 104–108. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 29, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں

