ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَلَقَ: پیدا کیا، وجود میں لایا۔
- الْإِنسَانَ: انسان، یعنی بنی نوع انسان۔
- عَلَقٍ: جمے ہوئے خون کا ٹکڑا، جو نطفے کے بعد رحمِ مادر میں بچے کی ابتدائی صورت ہوتی ہے۔
تفسیرِ آیت:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت اور قدرتِ کاملہ کا ایک عظیم شاہکار بیان فرما رہے ہیں۔ فرمایا: "اس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے ٹکڑے سے پیدا کیا۔" یعنی انسان کی تخلیق کا آغاز ایک حقیر اور معمولی چیز سے ہوا — پہلے نطفہ، پھر وہ نطفہ رحمِ مادر میں جم کر خون کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے، اور پھر اسی سے اللہ تعالیٰ اسے مکمل انسان بناتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، اور یہی اللہ کی ربوبیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی اصل یاد دلا کر اسے غرور اور تکبر سے بچانا چاہا ہے۔ انسان جب اپنے آغاز پر غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر ناچیز چیز سے بنا ہے، پھر اسے کیسے فخر اور گھمنڈ ہو سکتا ہے؟ یہی وہ حقیقت ہے جو انسان کو عاجزی اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ میں ہمارے لیے بے شمار نصیحتیں اور سبق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا، پھر ہمیں عزت، عقل اور علم عطا کیا، اور ہمیں اشرف المخلوقات بنایا۔ کیا یہ احسانِ عظیم ہمارے لیے اللہ کا شکر ادا کرنے کا تقاضا نہیں کرتا؟ کیا وہ رب جو ہمیں عدم سے وجود میں لایا، ہمیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ یقیناً وہ قادر ہے۔ پس اے انسان! اپنے خالق کو پہچان، اس کی عبادت کر، اور اس کی نعمتوں کا شکر گزار بندہ بن۔ یہی تیری کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کر کے یہ موقع دیا ہے کہ تو اپنے رب کو پہچانے اور اس کی رحمت حاصل کرے۔ اس سے پہلے کہ موت آ جائے، اپنے خالق کی طرف رجوع کر اور اس کے دینِ اسلام کو اپنا لے، جو تیرے لیے دنیا اور آخرت میں سکون اور کامیابی کا ضامن ہے۔
📜 آیت 1-4 — علق
ترجمہ — علق 2
سورہ علق آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایاسورہ آیت 2/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








