دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مثَل اين زندگى دنيا مثَل بارانى است كه از آسمان نازل كنيم، تا بدان هر گونه رستنيها از زمين برويد، چه آنها كه آدميان مىخورند و چه آنها كه چارپايان مىچرند. چون زمين پيرايه خويش برگرفت و آراسته شد و مردمش پنداشتند كه خود قادر بر آن همه بودهاند، فرمان ما شب هنگام يا به روز دررسد و چنان از بيخش بركنيم كه گويى ديروز در آن مكان هيچ چيز نبوده است. آيات را براى مردمى كه مىانديشند اينچنين تفصيل مىدهيم.
دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
زُخْرُفَها: زمین کی زینت اور خوبصورتی، یعنی پھولوں اور سرسبز فصلوں کی رونق۔
ازَّیَّنَت: مزید آراستہ ہوئی، اپنی پوری زیب و زینت کے ساتھ جلوہ گر ہوئی۔
حَصِیدًا: کٹی ہوئی فصل کی طرح، بالکل نیست و نابود۔
تَغْنَ: آباد ہونا، قیام پذیر ہونا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں دنیا کی حقیقت کو ایک زندہ مثال کے ذریعے واضح فرما رہے ہیں تاکہ انسان اس فانی زندگی کے بارے میں غور کریں اور اس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ دنیا کی مثال اس بارش کی سی ہے جو ہم آسمان سے نازل کرتے ہیں، پھر اس بارش کی برکت سے زمین سے مختلف قسم کے پودے اگتے ہیں، جن میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں جیسے غلّے اور پھل، اور کچھ جانوروں کی خوراک ہیں جیسے گھاس اور چارہ۔ یہ سب نباتات آپس میں اس قدر گھل مل جاتے ہیں کہ زمین ایک خوبصورت باغیچہ بن جاتی ہے۔
پھر جب زمین اپنی پوری رونق اور زیبائش حاصل کر لیتی ہے، اور اس کے مالکان یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب ہم اس کی فصل کاٹیں گے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے، تو اچانک رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب یا آفت) آ پہنچتا ہے۔ چنانچہ ہم اس ساری سرسبزی و شادابی کو اس طرح کٹی ہوئی فصل میں تبدیل کر دیتے ہیں کہ گویا کل وہاں کبھی کوئی آبادی یا سرسبزی تھی ہی نہیں۔
یہ ہے دنیا کی اصل حقیقت! آج انسان اپنی دولت، اولاد، باغات اور عمارتوں پر فخر کرتا ہے، لیکن کل ہی اسے معلوم نہیں کہ اللہ کا حکم کب آ جائے اور یہ سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی نشانیاں اور دلائل بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ لوگ جو عقل و فکر رکھتے ہیں، وہ اس دنیا کی بے ثباتی کو سمجھیں اور آخرت کی تیاری کریں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ خوبصورت باغات، یہ سرسبز کھیت، یہ شاندار عمارتیں، یہ جمع شدہ دولت — سب کچھ ایک دن ختم ہو جانے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں متنبہ فرما رہے ہیں کہ دنیا کی محبت اور اس کی زینت پر بھروسہ نہ کرو، کیونکہ یہ سب عارضی ہے۔ جو شخص دنیا کو اپنا مقصود بنا لیتا ہے، وہ آخرت کے دائمی سکون سے محروم رہ جاتا ہے۔ لیکن جو شخص اس دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھ کر نیک اعمال کرتا ہے، وہ کامیاب ہے۔ آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں کہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت اور نیک اعمال سے آراستہ کریں، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو اس فانی دنیا کے بعد ہمارے کام آئے گی۔ اللہ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچائے اور آخرت کی تیاری کی توفیق دے۔ آمین۔
وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں
لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔