ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- القارعة: اس کا لغوی معنی ہے "دھڑکنے والی" یا "کھٹکھٹانے والی"۔ یہ قیامت کے لیے بطور صفت استعمال ہوئی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے دلوں کو شدید خوف اور ہیبت سے دھڑکا دے گی۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے "القارعة" کا لفظ استعمال کرکے اس کی ہولناکی کو بیان فرمایا ہے۔ یہ ایک ایسی آفت ہے جو دلوں کو دہلا دے گی، عقلوں کو حیران کر دے گی، اور لوگوں کے دل خوف کے مارے دھڑکنے لگیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے استفہامیہ انداز میں فرمایا: "ما القارعة" یعنی تم کیا سمجھتے ہو کہ وہ کھٹکھٹانے والی کیا ہے؟ یہ سوال دراصل اس کے عظمت و ہول کو مزید بڑھانے کے لیے ہے، جیسے کوئی شخص کسی انتہائی اہم چیز کا ذکر کرتے ہوئے کہے کہ کیا تم جانتے ہو وہ کیا ہے؟ اس سے سامع کے دل میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ قیامت کی ہولناکی کا اندازہ لگانا انسانی عقل کے بس سے باہر ہے، اس لیے اللہ نے اسے بیان کرنے کے بجائے صرف اس کی عظمت کا احساس دلایا۔
فوائد:
- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے، اور اس کی ہولناکی اتنی شدید ہے کہ اس کا تصور کرنا بھی انسان کے لیے مشکل ہے۔
- یہ آیت انسان کو آخرت کے لیے تیاری کی تلقین کرتی ہے، کیونکہ جب کوئی شخص کسی بڑے حادثے سے ڈرتا ہے تو وہ اس سے بچنے کی تدبیر کرتا ہے، اسی طرح قیامت کے خوف سے انسان کو نیک اعمال کی طرف راغب ہونا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ کا یہ اندازِ بیان قرآن کی بلاغت کا شاہکار ہے، جو انسان کے دل میں رعب اور خوف پیدا کرتا ہے اور اسے غفلت سے بیدار کرتا ہے۔
📜 آیت 1-4 — سورہ قارعہ
ترجمہ — قارعہ 2
سورہ قارعہ آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟سورہ آیت 2/11 — سورہ قارعہ القارعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ قارعہ سنیں, سورہ قارعہ ترجمہ, سورہ قارعہ mp3, سورہ قارعہ pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








