ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَدْرَاكَ: آپ کو کیا معلوم کرائے، یعنی آپ کو اس کی حقیقت کا علم کس طرح ہو سکتا ہے۔
- الْقَارِعَةُ: کھڑکھڑانے والی، وہ چیز جو دل دہلا دے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرما رہے ہیں کہ اے رسول! آپ کو کیا معلوم کہ وہ کھڑکھڑانے والی (قیامت) کیا ہے؟ یعنی اس کی ہولناکی اور شدت کا اندازہ لگانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی عظمت، دہشت اور ہیبت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔ یہ سوال اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اس کی اہمیت اور سنگینی کو اجاگر کیا جائے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کی عظمت بیان کرنا چاہتا ہے تو اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے جو سننے والے کے دل میں رعب اور خوف پیدا کر دے۔ یہ قیامت کا وہ دن ہے جب لوگوں کے دل خوف سے دھڑکیں گے، اور ہر شخص اپنے اعمال کے حساب کے لیے پیش کیا جائے گا۔
فوائد:
- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کی ہولناکی اتنی عظیم ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی مکمل حقیقت سے آگاہ نہیں کرایا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دن کتنا سخت ہوگا۔
- یہ آیت انسان کو آخرت کی فکر کرنے اور اس کی تیاری کرنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ جو چیز اتنی ہولناک ہو اس کے لیے عمل صالح کے سوا کوئی تیاری نہیں۔
- اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پہلو بھی ہے کہ اس نے ہمیں قیامت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ ہم اس دن کے لیے اپنا راستہ درست کر لیں، ورنہ یہ علم نہ ہوتا تو ہم غفلت میں پڑے رہتے۔
📜 آیت 1-5 — قارعہ
ترجمہ — قارعہ 3
سورہ قارعہ آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تم کیا جانوں کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟سورہ آیت 3/11 — قارعہ القارعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قارعہ سنیں, قارعہ ترجمہ, قارعہ mp3, قارعہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








