Wa im min qaryatin illaa Nahnu muhlikoohaa qabla Yawmil Qiyaamati aw mu`az ziboohaa `azaaban shadeedaa; kaana zaalika fil Kitaabi mastooraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (کفر کرنے والوں کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هيچ قريهاى نباشد مگر اينكه پيش از فرا رسيدن روز قيامت هلاكش مىكنيم يا به عذابى سخت گرفتارش مىسازيم. و اين در آن كتاب نوشته شده است.
اور (کفر کرنے والوں کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
قَرْيَةٍ: بستی، شہر یا آبادی۔
مُهْلِكُوهَا: ہلاک کرنے والے۔
مُعَذِّبُوهَا: عذاب دینے والے۔
مَسْطُورًا: لکھا ہوا، مقدر۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کافروں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے کہ کوئی بھی بستی یا شہر جو کفر اور تکذیبِ رسالت پر قائم ہو، ایسا نہیں ہے کہ ہم اسے قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اسے سخت عذاب میں مبتلا نہ کریں۔ یعنی ہر کافر بستی پر اللہ کا عذاب آ کر رہے گا، چاہے وہ ہلاکت اور تباہی کی صورت میں ہو یا قتل، قحط، بیماری اور دیگر مصیبتوں کی شکل میں۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، بلکہ اللہ کے اٹل فیصلے کے مطابق ہے جو لوحِ محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بڑی تسلی اور اطمینان کا باعث ہے کہ اللہ کافروں کو ان کی سرکشی پر ضرور پکڑے گا، چاہے وہ کتنی ہی طاقت اور وسائل حاصل کر لیں۔ ساتھ ہی یہ کافروں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے، اور ان کی ہر حرکت اللہ کے علم اور اس کے لکھے ہوئے فیصلے کے تحت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی سنت (قانون) کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ جو قومیں حق کو جھٹلاتی ہیں اور ظلم پر قائم رہتی ہیں، ان کا انجام تباہی ہی ہے۔ یہ ہمارے لیے دعوتِ فکر ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں، اور کفر و معصیت سے بچیں۔ نیز یہ کہ اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کا عذاب بھی حقیقی ہے، اور ہمیں اپنے رب سے ڈرتے ہوئے نیک اعمال کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کی اطاعت کریں گے، ان کے لیے اس دنیا میں بھی عزت ہے اور آخرت میں بھی کامیابی، جبکہ نافرمانوں کا انجام دردناک عذاب ہے۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے۔ آمین۔
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے
یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
اور (کفر کرنے والوں کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے
اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو
جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔