Fantalaqaa hattaaa izaaa atayaaa ahla qaryatinis tat`amaaa ahlahaa fa abaw any yudaiyifoohumaa fawajadaa feehaa jidaarany yureedu any yanqadda fa aqaamah; qaala law shi`ta lattakhazta `alaihi ajraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس برفتند تا به دهى رسيدند. از مردم آن ده طعامى خواستند. از ميزبانيشان سر برتافتند. آنجا ديوارى ديدند كه نزديك بود فرو ريزد. ديوار را راست كرد. موسى گفت: كاش در برابر اين كار مزدى مىخواستى.
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْتَطْعَمَا: دونوں نے کھانا مانگا۔
فَأَبَوْا: انہوں نے انکار کیا۔
یُضَیِّفُوْہُمَا: ان کی ضیافت کریں (مہمان نوازی کریں)۔
جِدَارًا: دیوار۔
یُرِیدُ أَنْ یَنْقَضَّ: قریب تھی کہ گر جائے، جھک گئی تھی۔
فَأَقَامَهُ: اسے سیدھا کھڑا کر دیا (درست کر دیا)۔
لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ أَجْرًا: تم اس پر اجرت لے لیتے۔
تفسیر:
پھر موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام چلتے رہے، یہاں تک کہ وہ ایک بستی کے لوگوں کے پاس پہنچے۔ یہ بستی شام کے علاقے میں واقع تھی۔ انہوں نے بستی والوں سے کھانا مانگا تاکہ بھوک مٹا سکیں، لیکن بستی والوں نے ان کی ضیافت کرنے سے صاف انکار کر دیا اور انہیں کچھ نہ دیا۔ اس کے باوجود جب وہ بستی میں آگے بڑھے تو انہیں ایک دیوار ملی جو جھک چکی تھی اور قریب تھی کہ گر جائے۔ خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو سیدھا کر کے کھڑا کر دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے کہا: "اگر آپ چاہتے تو اس کام پر اجرت لے لیتے، کیونکہ ہمیں کھانے کی سخت ضرورت ہے اور بستی والوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔"
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی اور بھلائی کا کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے، چاہے لوگ اس کی قدر نہ کریں یا ہماری مدد نہ کریں۔ خضر علیہ السلام نے بستی والوں کی دیوار ان کے ناپسندیدہ رویے کے باوجود ٹھیک کی، کیونکہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے اور ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی، نہ کہ دنیاوی فائدہ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں کے ساتھ بھلائی کریں، چاہے وہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نیک کام کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں ضرور اجر دے گا۔ یہ بھی سبق ہے کہ مایوسی اور شکایت کے بجائے صبر اور بھلائی کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ اللہ کا فضل ہر جگہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔