بقرہ · 111/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۝١١١
Wa qaaloo lai yadkhulal jannata illaa man kaana Hoodan aw Nasaaraa; tilka ammniyyuhum; qul haatoo burhaa nakum in kuntum saadiqeen
📖 اردو ترجمہ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ہُودًا: یہودی (ہائد کی جمع
  • أَمَانِيُّهُمْ: ان کی باطل خواہشات اور جھوٹی آرزوئیں۔
  • بُرْهَانَكُمْ: اپنی دلیل اور ثبوت۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے اس دعوے کا رد فرمایا ہے جو انہوں نے بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ کیا تھا۔ یہودی کہتے تھے کہ جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو یہودی ہو، اور نصاریٰ کہتے تھے کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو نصرانی ہو۔ ہر فرقہ اپنے آپ کو اللہ کا چہیتا اور جنت کا وارث سمجھتا تھا، حالانکہ یہ محض ان کی باطل آرزوئیں اور جھوٹی امیدیں تھیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا: اے نبی! ان سے کہو کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔ یعنی کوئی ایسا ثبوت لاؤ جو تمہارے اس دعوے کی تصدیق کرے، خواہ وہ آسمانی کتابوں سے ہو یا عقل سے۔ لیکن ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، کیونکہ یہ محض ان کی خود ساختہ خواہشات تھیں۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین میں کسی بھی دعوے کی بنیاد دلیل اور برہان پر ہونی چاہیے، نہ کہ محض خواہشات اور تعصبات پر۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ ایمان اور عمل صالح والوں سے کیا ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل، قوم یا رنگ سے تعلق رکھتے ہوں۔ اصل فضیلت تقویٰ اور نیک اعمال میں ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ سے وابستگی میں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دین کے بارے میں حقائق کو سمجھنا چاہیے اور کسی بھی قوم یا گروہ کے بارے میں تعصب سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو تمام انسانوں کو یکساں طور پر دعوت دیتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں، اس کے رسولوں کو مانیں اور نیک اعمال کریں۔ جنت کا وعدہ صرف اللہ کے حکموں پر عمل کرنے والوں کے لیے ہے، خواہ وہ کسی بھی نسل یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے دعووں میں سچے ہونے کے لیے دلیل اور ثبوت پیش کرنے چاہئیں، اور باطل خواہشات کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں سچائی اور دلیل کی راہ دکھائی ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر عمل کریں تاکہ ہم جنت کے حقدار بن سکیں۔



📜 آیت 109-113 — بقرہ

109وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
110وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
111وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
112بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
113وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
111آیت

ترجمہ — بقرہ 111

سورہ بقرہ آیت 111 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں…

سورہ آیت 111/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 109–113. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں