بقرہ · 112/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝١١٢
Balaa man aslama wajhahoo lillaahi wa huwa muhsinun falahooo ajruhoo `inda rabbihee wa laa khawfun `alaihim wa laa hum yahzanoon
📖 اردو ترجمہ
ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

معانی الفاظ:

  • أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ: اپنے چہرے کو اللہ کی طرف جھکا دیا، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے تابع کر دیا، اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کی۔
  • مُحْسِنٌ: نیک عمل کرنے والا، اپنے اعمال کو سنوارنے والا، یعنی عبادت میں اتباعِ رسول ﷺ کا پابند۔
  • أَجْرُهُ: اس کا ثواب اور جزا۔
  • لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ: انہیں کوئی خوف نہ ہوگا (آخرت کے معاملات میں
  • وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ: اور نہ وہ غمگین ہوں گے (دنیا کی کھوئی ہوئی چیزوں پر

تفسیر:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا یہود و نصاریٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنت صرف انہی کے لیے ہے اور کوئی اور اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جو اپنے چہرے کو اللہ کی طرف جھکائے، یعنی اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے کرے، شرک سے پاک ہو، اور ساتھ ہی وہ محسن بھی ہو، یعنی اپنے اعمال میں نیک ہو اور رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے رب کے پاس مکمل اجر ملے گا، اور وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ انہیں آخرت کے کسی معاملے کا خوف نہیں ہوگا، اور نہ ہی وہ دنیا کی کسی کھوئی ہوئی چیز پر غمگین ہوں گے۔

یہ وصفِ کامل ہے جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد صرف امتِ محمدیہ میں پایا جاتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا راستہ نہیں جو اللہ تک پہنچائے سوائے آپ ﷺ کی پیروی کے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نجات کا دروازہ سب کے لیے کھلا رکھا ہے — خواہ کوئی کسی بھی نسل، قوم یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ اصل معیار صرف اخلاص اور اتباعِ رسول ﷺ ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اپنے پاس بلانے کا راستہ دکھایا۔ اگر ہم اپنے دل کو اللہ کی طرف موڑ لیں، اپنے اعمال کو سنوار لیں، اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کو اپنا لائیں، تو ہمارے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ کوئی خوف نہیں، کوئی غم نہیں — بس اللہ پر بھروسہ اور اس کی رضا کی طلب۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اس معیار پر ڈھالیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 110-114 — بقرہ

110وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
111وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
112بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
113وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
114وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
112آیت

ترجمہ — بقرہ 112

سورہ بقرہ آیت 112 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی…

سورہ آیت 112/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 110–114. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں