اور اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
القصاص: قصاص کا مطلب ہے قاتل کو قتل کی سزا دینا، یعنی بدلہ لینا۔
حیاة: زندگی، بقاء، امن و سلامتی۔
أولى الألباب: عقل والے، سمجھ دار لوگ۔
تتقون: پرہیزگار بنو، گناہوں سے بچو، اللہ کا خوف کرو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قصاص (یعنی قاتل کو قتل کی سزا دینے) کے قانون کو زندگی کا ضامن قرار دیا ہے۔ یہ ایک عظیم حکمت ہے کہ جب قاتل کو معلوم ہوگا کہ اسے قتل کی سزا ملے گی، تو وہ قتل جیسے سنگین جرم سے باز رہے گا۔ اس طرح معاشرے میں خونریزی کم ہوگی، لوگوں کی جانیں محفوظ رہیں گی، اور امن و امان قائم رہے گا۔
یہ قانون صرف سزا نہیں بلکہ رحمت ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک شخص کی جان لینے سے بہت سی جانیں بچ جاتی ہیں۔ اگر قصاص نہ ہو تو کمزور لوگوں پر ظلم ہوگا، اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں خاص طور پر "اے عقل والو" کہہ کر خطاب کر رہے ہیں، کیونکہ عقل سلیم ہی اس حکمت کو سمجھ سکتی ہے کہ قصاص میں زندگی ہے، نہ کہ محض انتقام۔ یہ لوگ ہیں جو اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام کا ہر قانون انسانیت کی بھلائی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیے ہیں، وہ ہماری اپنی حفاظت اور بہتری کے لیے ہیں۔ جب ہم ان احکام پر عمل کریں گے، تو ہماری زندگیاں پرامن اور خوشحال ہوں گی۔ آئیے ہم عقل سے کام لیں، اللہ کے احکام کو سمجھیں، اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔