بقرہ · 180/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ۝١٨٠
Kutiba `alaikum izaa hadara ahadakumul mawtu in taraka khairanil wasiyyatu lilwaalidaini wal aqrabeena bilma`roofi haqqan `alalmut taqeen
📖 اردو ترجمہ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

کلمات کے معانی:

  • کُتِبَ: فرض کیا گیا، لازمی قرار دیا گیا۔
  • حَضَرَ: حاضر ہونا، قریب آنا۔
  • خَیرًا: مال، دولت۔
  • الْوَصِیَّةُ: وصیت، یعنی اپنے مال میں سے کسی حصے کا تعین کرنا۔
  • بِالْمَعْرُوفِ: مناسب طریقے سے، عدل و انصاف کے ساتھ، شرعی حدود کے مطابق۔
  • حَقًّا: یہ ایک ثابت شدہ حق ہے۔
  • الْمُتَّقِین: پرہیزگار، اللہ سے ڈرنے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ فرض قرار دیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کے آثار اور اسباب ظاہر ہوں، یعنی بیماری یا ایسی حالت جو موت کا پیش خیمہ ہو، اور وہ شخص کچھ مال چھوڑ رہا ہو، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے۔ یہ وصیت شرعی حدود کے مطابق ہو، یعنی اس میں عدل و انصاف کا لحاظ رکھا جائے، کسی مستحق کو چھوڑ کر غیر مستحق کو نہ دیا جائے، اور مال کے تیسرے حصے (ثلث) سے زیادہ وصیت نہ کی جائے۔

یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ثابت شدہ حق ہے جو پرہیزگار لوگوں پر لازم ہے، کیونکہ پرہیزگار وہی ہوتے ہیں جو اللہ کے احکام کو بجا لاتے ہیں اور اس کی حدود کا خیال رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں نازل ہوا تھا، جب وراثت کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے آیتِ میراث (سورۃ النساء) نازل فرمائی، جس میں ہر وارث کا حصہ مقرر کر دیا گیا، تو یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ اب وراثت انہی مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوتی ہے، اور وصیت صرف ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو وارث نہ ہوں، اور وہ بھی ثلث (ایک تہائی) مال سے زیادہ نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر دور اور ہر حالت میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی بھلائی کے لیے احکام نازل کیے، اور جب حالات بدلے تو نئے احکام دے کر آسانی پیدا کی۔ یہ دین کی خوبصورتی ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، کیونکہ انہیں میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والدین اور رشتہ داروں کے حقوق کو بہت اہمیت دی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں اور ان کے حقوق ادا کریں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکتیں ہمارے شامل حال ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 178-182 — بقرہ

178يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ
مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے
179وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو
180كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے
181فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
182فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
180آیت

ترجمہ — بقرہ 180

سورہ بقرہ آیت 180 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں…

سورہ آیت 180/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 178–182. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں