ترجمہ — Tafsir
ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
معانی الفاظ:
- أَفِيضُوا: رواں ہوں، نکل پڑو، روانہ ہو جاؤ۔
- مِنْ حَيْثُ: اس جگہ سے۔
- أَفَاضَ النَّاسُ: جہاں سے لوگوں نے (روانگی کی)۔
- وَاسْتَغْفِرُوا: اور مغفرت طلب کرو۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حج کے دوران ایک اہم ہدایت دے رہے ہیں۔ جب حجاج کرام عرفات میں وقوف کریں اور وہاں سے روانگی کا وقت آئے تو انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اسی جگہ سے روانہ ہوں جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں، یعنی عرفات سے۔ یہ اس لیے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش کا ایک گروہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہوئے مزدلفہ میں ٹھہرتا تھا اور عرفات نہیں جاتا تھا، حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت یہی تھی کہ عرفات سے روانگی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امتیازی رویے کو ختم کر کے سب کو برابر کر دیا اور حکم دیا کہ تمام لوگ ایک ہی جگہ سے روانہ ہوں، تاکہ امت میں اتحاد اور مساوات قائم ہو۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں: "اور اللہ سے مغفرت طلب کرو" یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگو، کیونکہ حج کے دوران انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری سے پیش آئے، اپنے تقصیرات اور کوتاہیوں کا اعتراف کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔ یہ دعا اور استغفار حج کی روح ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرماتے ہیں: "بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے" یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو توبہ کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔ اس کی رحمت تمام مخلوقات پر محیط ہے، اور وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اسلام میں مساوات کا اصول بہت اہم ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے نسب، قبیلے یا مقام کی وجہ سے دوسروں سے برتر نہیں ہے۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ استغفار ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ ہم سب خطا کار ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ہم خلوص دل سے توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی کوئی حد نہیں، وہ ہر اس بندے کو معاف کر دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں استغفار کو معمول بنائیں اور اللہ کی رحمت سے امید رکھیں، کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔
📜 آیت 197-201 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 199
سورہ بقرہ آیت 199 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم…سورہ آیت 199/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 197–201. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








