بقرہ · 199/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝١٩٩
Summa afeedoo min haisu afaadan naasu wastagh firullaah; innnal laaha Ghafoo rur-Raheem
📖 اردو ترجمہ
پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

معانی الفاظ:

  • أَفِيضُوا: رواں ہوں، نکل پڑو، روانہ ہو جاؤ۔
  • مِنْ حَيْثُ: اس جگہ سے۔
  • أَفَاضَ النَّاسُ: جہاں سے لوگوں نے (روانگی کی
  • وَاسْتَغْفِرُوا: اور مغفرت طلب کرو۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حج کے دوران ایک اہم ہدایت دے رہے ہیں۔ جب حجاج کرام عرفات میں وقوف کریں اور وہاں سے روانگی کا وقت آئے تو انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اسی جگہ سے روانہ ہوں جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں، یعنی عرفات سے۔ یہ اس لیے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش کا ایک گروہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہوئے مزدلفہ میں ٹھہرتا تھا اور عرفات نہیں جاتا تھا، حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت یہی تھی کہ عرفات سے روانگی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امتیازی رویے کو ختم کر کے سب کو برابر کر دیا اور حکم دیا کہ تمام لوگ ایک ہی جگہ سے روانہ ہوں، تاکہ امت میں اتحاد اور مساوات قائم ہو۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں: "اور اللہ سے مغفرت طلب کرو" یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگو، کیونکہ حج کے دوران انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری سے پیش آئے، اپنے تقصیرات اور کوتاہیوں کا اعتراف کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔ یہ دعا اور استغفار حج کی روح ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرماتے ہیں: "بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے" یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو توبہ کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔ اس کی رحمت تمام مخلوقات پر محیط ہے، اور وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اسلام میں مساوات کا اصول بہت اہم ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے نسب، قبیلے یا مقام کی وجہ سے دوسروں سے برتر نہیں ہے۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ استغفار ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ ہم سب خطا کار ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ہم خلوص دل سے توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی کوئی حد نہیں، وہ ہر اس بندے کو معاف کر دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں استغفار کو معمول بنائیں اور اللہ کی رحمت سے امید رکھیں، کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 197-201 — بقرہ

197الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو
198لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ
اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے
199ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے
200فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
201وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
199آیت

ترجمہ — بقرہ 199

سورہ بقرہ آیت 199 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم…

سورہ آیت 199/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 197–201. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں