بقرہ · 203/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
۞ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ۝٢٠٣
Wazkurul laaha feee ayyaamim ma`doodaat; faman ta`ajjala fee yawmaini falaaa ismaa `alaihi wa man taakhkhara falaaa isma `alayh; limanit-taqaa; wattaqul laaha wa`lamooo annakum ilaihi tuhsharoon
📖 اردو ترجمہ
اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ایام معدودات: گنے ہوئے دن، یعنی ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ)
  • تعجل: جلدی کرنا، پہلے نکل جانا
  • تاخر: دیر کرنا، بعد میں جانا
  • حشر: جمع ہونا، اکٹھا ہونا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان گنے ہوئے دنوں میں اللہ کا ذکر کریں، یعنی تکبیر، تہلیل اور حمد و ثنا کریں۔ یہ ایام تشریق ہیں جو قربانی کے دن کے بعد تین دن ہیں (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ)۔ ان دنوں میں حجاج منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور رمی جمار کے وقت اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ حجاج کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے کہ جو شخص جلدی کرنا چاہے اور بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے منیٰ سے نکل جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو شخص تاخیر کرے یعنی تیرہویں تاریخ تک رہے اور تیسرے دن بھی رمی کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ یہ رعایت اور آسانی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنے حج کو اس طرح ادا کرتے ہیں جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے۔

تاخیر کرنا افضل ہے کیونکہ اس میں عبادت کا زیادہ وقت ملتا ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کے عمل کے مطابق ہے۔ آپ ﷺ نے تیرہویں تاریخ تک منیٰ میں قیام فرمایا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کو ایک دن اس کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے۔ یہ یاد دہانی ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ہم اپنے اعمال کا حساب رکھیں اور اس دن کے لیے تیاری کریں۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے۔ اس نے حج جیسی عظیم عبادت میں بھی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے ان احسانات کو یاد کریں اور اس کی نعمتوں کے شکرگزار بنیں۔

اللہ کا ذکر ہمارے دلوں کو سکون بخشتا ہے اور ہمیں اس کی قربت عطا کرتا ہے۔ ان ایام میں ذکر الٰہی کی جو فضیلت ہے وہ ہمیں اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کو یاد رکھیں۔

یاد رکھیں! ہم سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اس دن ہم سے ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جو شخص اس دن کے لیے تیاری کرے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو غافل رہے گا وہ نقصان اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ اختیار کرنے اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 201-205 — بقرہ

201وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو
202أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے
203۞ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔
204وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
205وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ
اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
203آیت

ترجمہ — بقرہ 203

سورہ بقرہ آیت 203 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن…

سورہ آیت 203/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 201–205. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں