بقرہ · 204/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ۝٢٠٤
Wa minan naasi mai yu`jibuka qawluhoo fil hayaatid dunyaa wa yushhidul laaha `alaa maa fee qalbihee wa huwa aladdulkhisaam
📖 اردو ترجمہ
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُعْجِبُكَ: آپ کو خوش کرتا ہے، پسند آتا ہے۔
  • یُشْهِدُ اللہَ: اللہ کو گواہ بناتا ہے۔
  • أَلَدُّ الْخِصَامِ: سخت جھگڑالو، شدید دشمنی کرنے والا۔

تفسیر آیت:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقین کے ایک اور کردار سے پردہ اٹھاتے ہیں، تاکہ اہلِ ایمان ان کے حیلوں سے بچے رہیں۔ فرمایا: اے نبی! لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کی باتیں آپ کو دنیا کی اس زندگی میں بہت خوشگوار اور دلکش معلوم ہوتی ہیں۔ وہ زبان سے ایسی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں، ایسے فصیح و بلیغ انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والا انہیں سچا اور مخلص سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن ان کا مقصد دنیا کا فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی بھلائی۔

پھر وہ اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھاتے ہیں کہ "اللہ گواہ ہے میرے دل میں تمہارے لیے محبت اور اسلام کے لیے خیرخواہی ہے۔" حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور ان کے دل میں کینہ اور بغض بھرا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کے نام کو جھوٹ کا پردہ بنانا انتہائی جرات اور بے باکی ہے۔

اور اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا سخت ترین دشمن ہے۔ جب موقع ملتا ہے تو وہ جھگڑے اور دشمنی میں حد سے بڑھ جاتا ہے، ہر طرح کی حیلہ سازی اور دشمنی کرنے سے باز نہیں آتا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں صرف ظاہری باتوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں بصیرت عطا فرمائے تاکہ ہم لوگوں کی اصلیت پہچان سکیں۔ نیز یہ کہ منافقین کا انجام برا ہے، کیونکہ وہ اللہ کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے دل میں کینہ رکھتے ہیں۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ اس کی زبان اور دل دونوں صاف ہوں، اور وہ اللہ سے ڈرتا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور دل کو سچائی اور خلوص سے بھریں، کیونکہ اللہ ہمارے دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ یہی ایمان کی خوبصورتی ہے کہ انسان ظاہر اور باطن میں یکساں ہو۔

🎧 سنیں

📜 آیت 202-206 — بقرہ

202أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے
203۞ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔
204وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
205وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ
اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
206وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
204آیت

ترجمہ — بقرہ 204

سورہ بقرہ آیت 204 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا…

سورہ آیت 204/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 202–206. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں