ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الغیب: وہ چیزیں جو آنکھوں سے پوشیدہ ہوں اور صرف وحی کے ذریعے معلوم ہوں۔
- یقیمون الصلاۃ: نماز کو اس کے وقت، شرائط، ارکان اور واجبات کے ساتھ قائم رکھنا۔
- رزقناہم: جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے (مال، دولت، اور دیگر نعمتیں)۔
- ینفقون: خرچ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں دیتے ہیں۔
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ متقیوں کی صفات بیان کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، یعنی ان چیزوں کی تصدیق کرتے ہیں جو ان کی حسوں سے پوشیدہ ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ، فرشتے، جنت، جہنم، حساب و کتاب، اور آخرت کے تمام احوال۔ یہ ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ دل کی گہرائی سے یقین اور اس کا عملی ثبوت ہوتا ہے۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ دل سے تصدیق ہو، زبان سے اقرار ہو، اور اعضاء و جوارح سے عمل ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں، یعنی نماز کو اس کے وقت پر، اس کی شرائط، ارکان، واجبات اور سنن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ نماز کو "قیام" سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دین کا ستون ہے اور اسے پوری پابندی سے ادا کرنا مومن کی پہچان ہے۔
تیسری صفت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی جو مال و دولت اللہ نے انہیں عطا کی ہے، اس میں سے فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور نیز نفلی صدقات بھی دیتے ہیں۔ یہ خرچ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور اس میں اللہ کا حق پہچانتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تقویٰ کا راستہ ایمان، نماز اور انفاق سے گزرتا ہے۔ ایمان دل کی روشنی ہے، نماز روح کی غذا ہے، اور انفاق مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ جب یہ تینوں صفات کسی انسان میں جمع ہو جائیں تو وہ حقیقی متقی بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان صفات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 1-5 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 3
سورہ بقرہ آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز…سورہ آیت 3/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








