بقرہ · 4/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ وَبِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ  ۝٤
Wallazeena yu`minoona bimaa unzila ilaika wa maaa unzila min qablika wa bil Aakhirati hum yooqinoon
📖 اردو ترجمہ
اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُؤْمِنُونَ: ایمان لاتے ہیں، دل سے تصدیق کرتے ہیں۔
  • مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ: جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا (یعنی قرآن مجید
  • مَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ: جو کچھ آپ سے پہلے نازل کیا گیا (یعنی پچھلی آسمانی کتابیں
  • بِالْآخِرَةِ: آخرت کے دن پر۔
  • یُوقِنُونَ: یقین رکھتے ہیں، ایسا پختہ یقین جس میں ذرہ برابر بھی شک نہ ہو۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کی مزید صفات بیان فرمائی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل ہوا، اور ان تمام کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئیں، جیسے تورات، انجیل، زبور اور دیگر آسمانی صحیفے۔ وہ ان سب کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ مانتے ہیں اور کسی نبی یا کتاب کے درمیان فرق نہیں کرتے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ یعنی وہ موت کے بعد کی زندگی، قبر کے احوال، حشر، حساب، میزان، پل صراط، جنت اور جہنم — ان سب پر ایسا پختہ یقین رکھتے ہیں جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ یہ یقین ان کے دلوں میں گہرا ہوتا ہے اور ان کے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔

آخرت پر یقین کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ ایمان کی بنیاد ہے۔ جب انسان کو یقین ہو کہ اسے مرنے کے بعد اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، تو وہ نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے۔ یہ یقین اسے ہر وقت چوکنا رکھتا ہے، جیسے کوئی مسافر جانتا ہو کہ اسے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے تو وہ اپنا سامان اور زادِ راہ تیار کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے متقیوں کی پہچان میں ایمان بالغیب، نماز کی پابندی، اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت پر یقین کو بھی شامل فرمایا ہے۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو ایک مومن کو حقیقی معنوں میں کامیاب بناتی ہیں۔ جب ہم آخرت پر یقین رکھتے ہیں تو ہماری زندگی کا مقصد واضح ہو جاتا ہے، ہم دنیا کو منزل نہیں سمجھتے بلکہ اسے آخرت کی کھیتی سمجھتے ہیں۔

آج کے دور میں جہاں لوگ صرف دنیا کی فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اس یقین کو مضبوط کریں اور اپنے اعمال کو آخرت کی کامیابی کے لیے سنواریں۔ یاد رکھیے! یہ دنیا چند دنوں کی مسافرت ہے، اصل گھر آخرت ہے۔ جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا، اس نے سب کچھ سمجھ لیا۔ اللہ ہمیں کامل یقین اور صالح عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 2-6 — بقرہ

2ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ هُدًى لِّلۡمُتَّقِينَ 
یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے
3ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ 
جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
4وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ وَبِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ 
اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
5أُوْلَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ 
یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں
6إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ 
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
4آیت

ترجمہ — بقرہ 4

سورہ آیت 4/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں