اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَقِيمُوا الصَّلَاةَ: نماز کو قائم کرو، یعنی اسے پوری طرح اس کے آداب اور شرائط کے ساتھ ادا کرو۔
آتُوا الزَّكَاةَ: زکوٰۃ دو، یعنی اپنے مال کا مقررہ حصہ مستحقین کو دو۔
أَطِيعُوا الرَّسُولَ: رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو، یعنی ان کے تمام احکام کو بجا لاؤ اور جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے رک جاؤ۔
لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ: تاکہ تم پر رحم کیا جائے، یعنی یہ اعمال اس امید اور رجاء پر کرو کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں اپنے بندوں کو تین عظیم احکام دیتا ہے جو ایمان کی بنیاد اور کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ پہلا حکم نماز قائم کرنے کا ہے، یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط، ارکان اور واجبات کے ساتھ خشوع و خضوع سے ادا کیا جائے۔ نماز وہ عبادت ہے جو بندے کو اللہ سے جوڑتی ہے اور اس کی روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ دوسرا حکم زکوٰۃ ادا کرنے کا ہے، یعنی اپنے مال میں سے اللہ کا مقرر کردہ حق نکال کر مستحقین تک پہنچایا جائے۔ زکوٰۃ مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور معاشرے میں محبت و ہمدردی کا رشتہ مضبوط کرتی ہے۔ تیسرا حکم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا ہے، یعنی آپ ﷺ کے تمام احکام کو بجا لانا اور جن چیزوں سے آپ نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرنا۔ یہ تینوں احکام ایک ساتھ اس لیے بیان کیے گئے ہیں کہ یہ دین کے ستون ہیں اور ان پر عمل کرنے سے بندہ اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ اس امید پر کرو کہ تم پر رحمت نازل ہو۔ یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو رحمت کی امید دلاتا ہے، تاکہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس کی اطاعت میں مشغول ہوں۔ رحمت الٰہی ہی اصل کامیابی ہے، جس کے ملنے سے دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام صرف عقیدہ اور ایمان کا نام نہیں، بلکہ عمل اور اطاعت کا نام ہے۔ نماز، زکوٰۃ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت یہ تینوں چیزیں ہمارے ایمان کی عملی تصویر ہیں۔ جب ہم نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چلیں گے، تو اللہ کی رحمت ہمارے شامل حال ہوگی۔ یہ رحمت ہی ہمیں جنت کی راہ دکھائے گی اور ہر مشکل میں ہمارا سہارا بنے گی۔ آئیے ہم ان احکام پر عمل کرنے کا عزم کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رحمت سے منور کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں، اور یہ نعمت انہیں ملتی ہے جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں
مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔