ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تاب: توبہ کیا، گناہوں سے باز آیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔
- سیئات: برائیاں، گناہ۔
- حسنات: نیکیاں، بھلائیاں۔
- غفور: بہت بخشنے والا۔
- رحیم: بہت مہربان، رحم فرمانے والا۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے رحمت کا دروازہ کھولتا ہے۔ پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو شرک کرتے ہیں، ناحق قتل کرتے ہیں اور زنا کرتے ہیں، اور ان کے لیے سخت عذاب اور ذلت کا بیان تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی رحمت کا دروازہ کھولتے ہوئے فرمایا کہ "مگر جو توبہ کر لے، ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے" ۔
یہ توبہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ وہ عظیم الشان دروازہ ہے جو اللہ نے اپنے گنہگار بندوں کے لیے کھولا ہے۔ توبہ کا مطلب صرف زبان سے "استغفر اللہ" کہنا نہیں، بلکہ دل سے گناہ پر نادم ہونا، اسے فوراً چھوڑ دینا، اور پکا ارادہ کرنا کہ آئندہ اس گناہ کی طرف نہیں لوٹوں گا۔ ایمان لانے کا مطلب ہے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھنا، اور عمل صالح کا مطلب ہے اپنے رب کی رضا کے لیے نیک کام کرنا۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا سب سے بڑا اعلان فرماتا ہے: "تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا" ۔ یہ اللہ کا بے مثال کرم ہے! تصور کریں، ایک شخص جس نے ساری زندگی گناہوں میں گزاری ہو، جب وہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہوں کو مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ شرک کو ایمان سے، قتل کو جہاد سے، زنا کو پاکدامنی سے بدل دیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرماتا ہے: "اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے" ۔ یعنی اللہ کی مغفرت صرف نام کی نہیں، بلکہ حقیقی مغفرت ہے جو گناہوں کو مکمل طور پر مٹا دیتی ہے، اور اس کی رحمت ایسی ہے جو اپنے بندوں کو توبہ کی توفیق دیتی ہے اور پھر انہیں معاف کر کے ان پر فضل فرماتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ چاہے گناہ کتنے ہی بڑے ہوں، اللہ کی رحمت اس سے بھی بڑی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے اور مجھ سے امید رکھتا رہے، میں تجھے معاف کرتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں۔" یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بلکہ ہر حال میں اس کی طرف رجوع کریں۔ توبہ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے، اور اللہ اپنے توبہ کرنے والے بندے سے اتنا محبت کرتا ہے کہ اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ کیا ہی عظیم رب ہے جو اپنے گنہگار بندے کو اتنی عزت دیتا ہے! آئیے، ہم سب اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی اس عظیم رحمت سے فائدہ اٹھائیں۔
📜 آیت 68-72 — فرقان
ترجمہ — فرقان 70
سورہ فرقان آیت 70 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے…سورہ آیت 70/77 — فرقان الفرقان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فرقان سنیں, فرقان ترجمہ, فرقان mp3, فرقان pdf. آیت 68–72. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








