ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نَزَلَ بِهِ: اس کے ساتھ اترا۔
- الرُّوحُ الْأَمِينُ: امانت دار روح، یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے کلامِ پاک کی عظمت اور اس کی حفاظت کا ذکر فرما رہے ہیں۔ یہ قرآنِ مجید کوئی عام کتاب نہیں، بلکہ یہ ربِّ کائنات کا نازل کردہ کلام ہے، جسے لے کر ایک معزز فرشتہ، حضرت جبرائیل علیہ السلام، جو "روح الامین" کہلاتے ہیں، نازل ہوئے۔ انہیں "امین" اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی وحی کو پہنچانے میں انتہائی امانت دار ہیں، نہ اس میں کوئی کمی کرتے ہیں اور نہ زیادتی، نہ اسے بدلتے ہیں اور نہ ہی چھپاتے ہیں۔
یہ نزولِ قرآن اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا، تاکہ آپ اسے اپنے قلبِ مبارک میں محفوظ کر لیں اور پھر اسے تمام انسانوں اور جنوں تک پہنچا دیں۔ یہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، جو نہایت واضح اور صاف زبان ہے، تاکہ لوگ اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور اپنی دین و دنیا کی اصلاح کریں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں قرآن کی عظمت اور اس کی حفاظت کا یقین دلاتی ہے۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے اور اسے لانے والا فرشتہ بھی امین ہے اور اسے پہنچانے والا نبی بھی امین ہے، تو ہمارے دلوں میں اس کتاب کے ساتھ محبت اور اعتماد پیدا ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن وہ روشنی ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر صراطِ مستقیم پر چلاتی ہے۔ آئیے! ہم اس عظیم نعمت کی قدر کریں اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔
📜 آیت 191-195 — شعراء
ترجمہ — شعراء 193
سورہ شعراء آیت 193 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہےسورہ آیت 193/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 191–195. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








