Wa dakhalal madeenata `alaa heene ghaflatim min ahlihaa fawajada feeha raju laini yaqtatilaani haazaa min shee`atihee wa haaza min `aduwwihee fastaghaasahul lazee min shee`atihee `alal lazee min `aduwwihee fawakazahoo Moosaa faqadaa `alaihi qaala haaza min `amalish Shaitaani innahoo `aduwwum mmudillum mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بىخبر از مردم شهر به شهر داخل شد. دو تن را ديد كه با هم نزاع مىكنند. اين يك از پيروانش بود و آن يك از دشمنانش. آن كه از پيروانش بود بر ضد آن ديگر كه از دشمنانش بود از او يارى خواست. موسى مشتى بر او نواخت و او را كشت. گفت: اين كار شيطان بود. او به آشكارا دشمنى گمراهكننده است.
اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
دَخَلَ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام شہر میں اُس وقت جب لوگ غفلت میں تھے، یعنی دوپہر کے وقت جب لوگ آرام کر رہے تھے یا کسی عید کے دن جب لوگ اپنے مشغلوں میں لگے ہوئے تھے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی اُنہوں نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا۔ ایک شخص بنی اسرائیل میں سے تھا جو مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم تھی، اور دوسرا قِبطی تھا جو فرعون کی قوم سے تھا اور مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا دشمن تھا۔ بنی اسرائیل والے نے مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے مدد طلب کی، تو مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے اُس قِبطی کو مُکّا مارا، لیکن وہ ضرب اتنی سخت تھی کہ اُس شخص کی موت واقع ہو گئی۔ یہ واقعہ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی نبوت سے پہلے پیش آیا۔ جب یہ حادثہ پیش آیا تو مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: یہ شیطان کے کاموں میں سے ہے، کیونکہ شیطان نے ہی میرے غصے کو بھڑکایا تھا۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور گمراہ کرنے والا ہے۔
یہاں سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے، کیونکہ غصہ شیطان کا ہتھیار ہے جس سے وہ انسان سے ایسے کام کروا دیتا ہے جن پر بعد میں پشیمانی ہوتی ہے۔ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام جیسے عظیم نبی نے بھی جب غصے میں آ کر یہ کام کیا تو فوراً ہی اُسے شیطان کی طرف منسوب کیا اور اس پر ندامت کا اظہار کیا۔ یہ ہمارے لیے بہترین نصیحت ہے کہ ہم غصے کے وقت کوئی فیصلہ نہ کریں، کوئی قدم نہ اٹھائیں، بلکہ پہلے ٹھنڈے ہوں اور پھر سوچ سمجھ کر عمل کریں۔
اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام مظلوم کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے، چاہے اُسے دشمن کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ ہمارے لیے بھی پیغام ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور مظلوم کی مدد کریں، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا بھی آنا چاہیے تاکہ ہماری مدد کسی نئے ظلم کا سبب نہ بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے اور شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
تو ہم نے (اس طریق سے) اُن کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے
اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔