ترجمہ — Tafsir
جب موسٰی علیہ السلام جوانی کی منزل میں پہنچے، جب ان کی قوت کامل ہو گئی اور وہ پوری طرح بالغ و مستوی ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا۔ یہ حکمت اور علم انہیں نبوت سے پہلے دیا گیا تھا، جس کے ذریعے وہ حق کو باطل سے پہچانتے تھے اور بنی اسرائیل کے دینی معاملات میں بصیرت رکھتے تھے۔ وہ اس علم کی روشنی میں لوگوں کو نصیحت کرتے اور برائیوں سے روکتے تھے۔
یہاں "اشد" سے مراد جوانی کی مکمل طاقت اور عقل کی پختگی ہے، اور "استوی" سے مراد چالیس سال کی عمر کو پہنچنا ہے، جو انبیاء کی بعثت کا سن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ خصوصی عنایت ان کے احسان اور اطاعت کی وجہ سے عطا فرمائی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جو لوگ احسان کرتے ہیں، یعنی اپنے اعمال میں خلوص اور حسنِ کارکردگی اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں ایسے ہی جزا دیتا ہے۔ یہ اللہ کا ابدی قانون ہے جو ہر زمانے میں جاری ہے۔ جو شخص اپنے کام کو خوبصورتی سے انجام دیتا ہے، اللہ اسے حکمت اور علم جیسی عظیم نعمتوں سے نوازتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی میں احسان کا راستہ اختیار کریں، یعنی اپنے فرائض کو بہترین طریقے سے ادا کریں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی توفیقات عطا فرمائے گا جو دنیا اور آخرت میں ہمارے لیے باعثِ خیر ہوں گی۔ اللہ اپنے محسن بندوں کو کبھی محروم نہیں رکھتا۔
📜 آیت 12-16 — قصص
ترجمہ — قصص 14
سورہ قصص آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب موسٰی جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہو…سورہ آیت 14/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








