آل عمران · 151/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ۖ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ ۝١٥١
Sanulqee fee quloobil lazeena kafarur ru`ba bimaaa ashrakoo billaahi maa lam yunazzil bihee sultaana-nw wa maawaahumun Naar; wa bi`sa maswaz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الرُّعْب: شدید خوف، دہشت اور گھبراہٹ۔
  • سُلْطَانًا: دلیل، برہان اور حجت۔
  • مَأْوَاهُم: ان کا ٹھکانہ اور رہنے کی جگہ۔
  • مَثْوَى: قیام گاہ، مقام۔

تفسیرِ آیات:

اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کو تسلی اور اطمینان دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب اور دہشت ڈال دیں گے۔ یہ رعب ان کے شرک کی وجہ سے ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے معبودوں کو شریک ٹھہرایا جن کی عبادت پر نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ ہی اللہ نے ان کے بارے میں کوئی حجت نازل فرمائی۔ وہ محض اپنی خواہشات اور جاہلی تقلید کی بنا پر ان جھوٹے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں۔

یہ رعب صرف دنیا تک محدود نہیں، بلکہ آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے، جو ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔ یہ انتہائی برا ٹھکانا ہے جو ظالموں کو ملے گا۔ غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دو سزاؤں کا مستحق قرار دیا: ایک دنیا میں رعب اور خوف، جو ان کے دلوں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ مؤمنین کے خلاف کوئی سازش نہ کر سکیں، اور دوسری آخرت میں آگ، جو ان کا ابدی ٹھکانا ہوگی۔

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکینِ مکہ غزوہ احد کے بعد واپس جا رہے تھے، لیکن انہوں نے پھر سے مسلمانوں کو ختم کرنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، جس کی وجہ سے وہ واپس نہ آ سکے۔ یہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو اپنے مؤمن بندوں کے خلاف کچھ نہیں کرنے دیتا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کا ہمیشہ حامی و ناصر ہے۔ جب تک ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، وہ ہمارے دلوں کو مضبوط کرے گا اور ہمارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہ وعدہ صرف اُس وقت کا نہیں، بلکہ آج بھی اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شرک اور بت پرستی سے بچیں، کیونکہ شرک ہی وہ سبب ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور فطرت دی ہے، اور اپنے دین کی حقانیت پر دلائل بھی نازل کیے ہیں، لہٰذا ہمیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ یاد رکھیں، کفر اور شرک کا انجام ہمیشہ ذلت اور عذاب ہے، جبکہ ایمان اور تقویٰ کا انجام عزت اور کامیابی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 149-153 — آل عمران

149يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ
مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے
150بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ
(یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے
151سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ۖ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
152وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے
153۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
151آیت

ترجمہ — آل عمران 151

سورہ آل عمران آیت 151 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں…

سورہ آیت 151/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 149–153. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں