ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فِي أَدْنَى الْأَرْضِ: زمین کے قریب ترین حصے میں، یعنی شام کا وہ علاقہ جو فارس کے قریب تھا (جزیرہ، جو دجلہ اور فرات کے درمیان واقع ہے)۔
- غَلَبِهِمْ: ان کے مغلوب ہونے کے بعد (یعنی رومیوں کے فارس سے شکست کھانے کے بعد)۔
- سَيَغْلِبُونَ: وہ عنقریب غالب آئیں گے (یعنی رومی فارس پر فتح پائیں گے)۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم پیشین گوئی بیان فرمائی ہے جو اس وقت کے حالات کے بالکل برعکس تھی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت فارس کی سلطنت نے رومیوں کو شکست دی تھی اور یہ شکست اس قدر فیصلہ کن تھی کہ رومی سلطنت کے زوال کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے۔ یہ جنگ شام کے قریبی علاقے میں ہوئی، جو فارس کے قریب ترین مقام تھا۔ اس وقت مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے کہا کہ دیکھو، فارس (جو آتش پرست تھے) نے روم (جو اہل کتاب تھے) کو شکست دے دی، اسی طرح تم بھی اپنے دین میں مغلوب ہو جاؤ گے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جن میں صرف چند سالوں کے اندر رومیوں کی فتح کی خبر دی گئی۔ قرآن نے فرمایا کہ رومی، اپنی اس شکست کے بعد، عنقریب فارس پر غالب آ جائیں گے۔ یہ پیشین گوئی اس وقت انتہائی حیرت انگیز تھی کیونکہ رومی سلطنت اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ جلد ہی بدلہ لے سکیں گے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے صبر اور یقین کا درس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ معاملات کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ جب اللہ نے چاہا تو رومیوں نے سات سال کے اندر فارس کو شکست دے دی، اور مسلمانوں کو اس فتح پر خوشی ہوئی کیونکہ رومی اہل کتاب تھے، چاہے انہوں نے اپنی کتاب میں تحریف کر رکھی تھی، لیکن پھر بھی وہ مشرکینِ فارس سے بہتر تھے۔
اس واقعے میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، کیونکہ اس نے مستقبل کی ایسی خبر دی جو کسی بشر کو معلوم نہیں ہو سکتی تھی۔ آج بھی جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں تو ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب وہ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں، کبھی ایک قوم غالب ہوتی ہے تو کبھی دوسری، لیکن اصل عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ حالات سے گھبرائے نہیں، بلکہ اللہ پر یقین رکھے اور صبر کرے، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔
📜 آیت 1-5 — روم
ترجمہ — روم 3
سورہ روم آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد…سورہ آیت 3/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








