ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- انطلق: روانہ ہوئے، نکل کھڑے ہوئے۔
- الملأ: سردار، رئیس، معزز لوگ۔
- امشوا: چلو، اپنے راستے پر قائم رہو۔
- اصبروا: صبر کرو، ثابت قدم رہو۔
- آلهتكم: تمہارے معبود، تمہارے دیوتا۔
- لشيء يراد: یقیناً یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی ارادہ (مقصد) ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں کفارِ قریش کے سرداروں کا وہ منصوبہ بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوتِ توحید کو ناکام بنانے کے لیے ترتیب دیا تھا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام پھیل رہا ہے اور لوگ حق کو قبول کر رہے ہیں، تو ان کے بڑے بڑے رئیس اور سردار اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے پیروکاروں سے کہنے لگے: "تم اپنے راستے پر قائم رہو، اپنے آبائی مذہب کو نہ چھوڑو، اور اپنے معبودوں کی عبادت پر صبر و استقامت سے جمے رہو۔" وہ کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) کا یہ پیغام دراصل کوئی سچائی نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند چال ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہم پر برتری حاصل کر لیں اور ہم ان کے تابع بن جائیں۔ انہوں نے اسے محض اقتدار کی بھوک اور سیاست کا کھیل قرار دیا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ کو کسی دنیاوی منفعت کی طلب نہ تھی، بلکہ آپ ﷺ صرف اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔
یہ وہی انداز ہے جو ہر دور کے باطل پرست اختیار کرتے ہیں۔ جب حق ظاہر ہوتا ہے تو وہ اسے "سازش" اور "ذاتی مفاد" کا نام دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو حق سے دور رکھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا۔ اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے مخالفین کی چالوں سے نہ گھبرائیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو ضرور غالب کرے گا۔ اے مسلمان! جب تم پر کوئی طعنہ دیا جائے یا تمہارے ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے، تو یاد رکھو کہ یہ پرانا طریقہ ہے، مگر اللہ کا نصرت کا وعدہ بھی قدیم ہے۔ صبر اور تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ انجام متقیوں کے لیے ہے۔
📜 آیت 4-8 — ص
ترجمہ — ص 6
سورہ ص آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے…سورہ آیت 6/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








