وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَقًّا: یقیناً، بلا کسی شک و شبہ کے۔
أَعْتَدْنَا: ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
مُهِينًا: ذلیل کرنے والا، رسوا کرنے والا عذاب۔
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اُن لوگوں کا فیصلہ سنا رہے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کے بجائے کفر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، اور ایمان و کفر کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں—کسی رسول پر ایمان لاتے ہیں اور کسی کو رد کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ حقیقی اور مکمل کافر ہیں، ان کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ کیونکہ جو شخص ایک رسول کو نہیں مانتا، اس نے درحقیقت تمام رسولوں کو نہیں مانا، اور جو اللہ کے بھیجے ہوئے کسی رسول کا انکار کرتا ہے، وہ اللہ کا انکار کرتا ہے۔ ایمان ایک مکمل نظام ہے، اسے ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انتقام کا اعلان فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے—قیامت کے دن وہ عذاب انہیں رسوا کرے گا، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، اور وہ اپنے تکبر اور سرکشی کی سزا بھگتیں گے۔ یہ عذاب اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کو قبول کرنے سے تکبر کیا، اور اللہ کے نیک بندوں اور رسولوں کی توہین کی۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم حقیقت سکھاتی ہے کہ ایمان ایک پورا راستہ ہے، اس میں آدھا ادھر اور آدھا ادھر نہیں ہو سکتا۔ جس طرح ایک مسافر کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے پورا راستہ طے کرنا پڑتا ہے، اسی طرح جنت تک پہنچنے کے لیے ہمیں اللہ کے تمام احکام اور اس کے تمام رسولوں پر مکمل ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ بڑا احسان کیا ہے کہ ہمیں صحیح راستہ دکھایا، اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہمارے لیے ایمان کی راہ آسان کر دی۔ آئیے ہم اس نعمت کی قدر کریں، اپنے ایمان کو مکمل کریں، اور اللہ کے اس وعدے سے ڈرتے رہیں کہ کفر و انکار کا انجام ذلت اور رسوائی ہے۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں کفر و نفاق سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔